لندن : (پاک ترک نیوز)تصور کریں ایک سائنسدان جو انٹارکٹیکا کے خطرناک گلیشیر میں گر گیا، 66 سال تک لاپتہ رہا، اور پھر اچانک برف سے باہر نکل آیا۔
یہ حیران کن واقعہ برطانوی ماہر موسمیات ڈینس "ٹنک” بیل کے ساتھ پیش آیا، جس کی باقیات 2025 میں دریافت ہوئیں۔ ڈینس بیل، 25 سال کا نوجوان، 1959 میں برٹش انٹارکٹک سروے کے لیے کنگ جارج جزیرے پر گلیشیر کا سروے کر رہا تھا۔
ایک دن وہ اپنے ساتھی کے ساتھ گلیشیر کے خطرناک حصے میں گیا، جہاں نرم برف کے نیچے ایک گہرا سوراخ تھا۔ بیل اس سوراخ میں گر گیا اور وہ لمحے بھر میں گم ہو گیا۔
تب سےاب تک سال گذر گئے اور یہ واقعہ ایک پراسرار کہانی بن گیا۔سال 2025 میں، پولش انٹارکٹک اسٹیشن کے اہلکاروں نے ایک گلیشیر پر انسانی باقیات دیکھیں۔
تحقیقات میں ایک ٹیم نے 200 سے زائد ذاتی اشیاء، جیسے ریڈیو آلات، لائٹ، سکی پولز، سوئڈش چاقو اور ایک انگریزی گھڑی دریافت کی۔
باقیات کو برٹش رائل ریسرچ شپ سے لندن بھیجا گیا، جہاں DNA ٹیسٹنگ سے یہ تصدیق ہوئی کہ یہ واقعی ڈینس بیل کی تھیں۔ڈینس کے بھائی نے کہا کہ 66 سال بعد بھائی کی بازیابی نے خاندان کو صدمے سے نمٹنے میں مدد دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نا صرف ایک پراسرار کہانی کو ختم کرتی ہے بلکہ انٹارکٹک سائنس کے انسانی پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ڈینس بیل کے نام پر کنگ جارج جزیرے پر بیل پوائنٹ رکھا گیا ہے، جو ان کی شجاعت اور سائنسی خدمات کا یادگار ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی ہمت اور فطرت کی طاقت کے درمیان کی کہانیاں کتنی خوفناک اور حیرت انگیز ہو سکتی ہیں۔








