
از: سہیل شہریار
وائٹ ہاؤس میں راز داری کے ساتھ گفت وشنید اور تیاری کے مراحل سے گزر رہے "غزہ رویرا” کے مذموم منصوبےکا بلیو پڑنٹ واشنگٹن پوسٹ نےلیک کر دیا ہے۔اس منصوبے کو پہلے ہی غزہ کی آبادی کی بڑے پیمانے پر نسل کشی اور نسلی صفائی کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش کے طور پر مستردکیا جا چکا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے گذشتہ روز اس منصوبے کا ایک دستاویز شائع کیا ہے جس میں غزہ کی 20 لاکھ آبادی کی جبری نقل مکانی شامل ہوگی اور اس علاقے کو کم از کم ایک دہائی تک امریکی ٹرسٹی شپ میں رکھا جائے گا۔
غزہ ری کنسٹرکشن، اکنامک ایکسلریشن اینڈ ٹرانسفارمیشن ٹرسٹ(گریٹ) کے نام سے یہ تجویز مبینہ طور پر انہی اسرائیلیوں کی طرف سے تیار کی گئی ہے۔ جنہوں نے بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے تعاون سے مالی منصوبہ بندی کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن بنائی اور اس کو عملی جامہ پہنایا۔جسے آج بھوکے فلسطینیوں کا قاتل ادارہ سمجھاجاتا ہے۔
اس منصوبے کی 38 صفحات پر مشتمل دستاویزمیں سب سے متنازعہ معاملہ "غزہ کی 20 لاکھ سے زیادہ آبادی کی عارضی منتقلی” کا ہے۔جن میں سے ایک چوتھائی سے بھی زیادہ پہلے ہی صیہونی بربریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ دنیا نے اس تجویز کو اسی وقت مسترد کردیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 فروری کو صیہونی وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں پہلی بار اس کا ذکر کیا تھا۔
صیہونی سازش پر مبنی اس منصوبے کے مندرجات کے مطابق تعمیر نو کے دوران فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ "رضاکارانہ” کسی دوسرے ملک یا محدود، محفوظ علاقوں میں چلے جائیں۔ جو لوگ زمین کے مالک ہیں ان کو ٹرسٹ کی طرف سے "ڈیجیٹل ٹوکن” کی پیشکش کی جائے گی تاکہ ان کی جائیداد کو دوبارہ تیار کرنے کے حقوق کے بدلے وہ اسےدوسری جگہوں پر نئی زندگی کی شروعات کے لئے استعمال کر سکیں۔جبکہ حراستی کیمپوںمیں مقیم لوگوں کو 323 مربع فٹ کے چھوٹے خیموں میں رکھا جائے گا ۔
https://www.youtube.com/watch?v=sfW5ppNmAvc&t=5s
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ منصوبہ امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، اور نہ ہی وائٹ ہاؤس اور نہ ہی محکمہ خارجہ نے واشنگٹن پوسٹ کی تبصرہ کی درخواست کا جواب دیا۔ تاہم یہ منصوبہ غزہ کی پٹی کو امرا کی دنیا بنانے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی عکاسی کرتا ہے۔اس مذموم سازش کے پیچھے کون ہے یہ اسی سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس اسکیم کو امریکی فنڈنگ کی ضرورت نہیں ہو گی اور سرمایہ کاروں کے ذریعے 100 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی جائے گی ۔اسکیم کے نقشے میں ایک پر ہجوم بندرگاہی شہر کا تصور پیش کیا گیا ہے جسے ایک نہر دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ اورشہر کے دونوں حصوں میں سعودی عرب کے مشکلات سے دوچار نیوم سٹی کی طرز پر آٹھ پتوں کی شکل میں اے آئی سے مزین بڑے شہر تعمیر ہونگے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس میں ایک "ایلون مسک” مینوفیکچرنگ پارک کا تصور بھی شامل ہے۔مزید براں اس متنازعہ منصوبے کی دستاویز کی زبان ،مقامات کے نام اور نشانات سبھی ٹرمپ کے لغو منصوبے ابراہم اکادڑ کی غمازی کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ تمام عرب اور اسلامی ملک اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس مذموم منصوبے کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکے ہیں جبکہ حماس سمیت تمام فلسطینی گروپوں کا کہنا ہے کہ "غزہ برائے فروخت نہیں ہے۔”غزہ عظیم فلسطینی وطن کا حصہ ہے۔”












