ڈھاکہ : (پاک ترک نیوز) بنگلہ دیش کی سیاست میں غیر متوقع تبدیلیوں کے بعد جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان تیزی سے قومی منظرنامے کے مرکزی کردار بن کر ابھرے ہیں۔
جو رہنما اور سفارت کار کچھ عرصہ قبل تک جماعت سے فاصلے پر رہتے تھے، اب وہ کھلے عام ان سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جبکہ بعض حالیہ جائزوں میں جماعت کو آئندہ انتخابات میں بڑی سیاسی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
67 سالہ شفیق الرحمان نے ڈھاکہ میں اپنی جماعت کا انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ اگر 12 فروری کے انتخابات میں کامیابی ملی تو 2040 تک بنگلہ دیش کی معیشت کو چار گنا بڑھا کر 2 کھرب ڈالر تک لے جانے کی بنیاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت، صنعت، آئی ٹی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کا اعلان کیا۔
ماہرین معاشیات نے منشور کو بلند دعوؤں پر مبنی قرار دیتے ہوئے مالی وسائل کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت کا اصل مقصد خود کو ایک قابلِ عمل اور جدید متبادل کے طور پر پیش کرنا ہے، نہ کہ محض مذہبی جماعت کے طور پر۔
جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سیاسی خلا پیدا ہوا۔ عوامی لیگ کے عملی طور پر سیاسی میدان سے باہر ہونے اور بی این پی کے واحد بڑی جماعت رہ جانے کے باعث جماعتِ اسلامی کو ابھرنے کا موقع ملا۔
بعض سرویز میں اسے بی این پی کے مدِ مقابل بڑی قوت کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔شفیق الرحمان، جو ماضی میں سرکاری ڈاکٹر رہ چکے ہیں، 2019 میں جماعت کے امیر بنے۔
انہیں 2022 میں شدت پسندی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا اور 15 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے۔ بعد ازاں ان کا نام مقدمات سے خارج کر دیا گیا۔
حالیہ جلسوں میں ان کی جذباتی تقاریر اور سادہ طرزِ سیاست نے نوجوانوں میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے، جہاں انہیں محبت سے “دادو” کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے، سادہ طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کا وعدہ کیا ہے۔ جماعت نے اپنی تاریخ میں پہلی بار ایک ہندو امیدوار کو بھی نامزد کیا ہے، جبکہ قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی کا آئین ہر مذہب کے شہری کو سیاسی شرکت کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم جماعت کو اب بھی 1971 کی جنگِ آزادی میں اپنے کردار کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔ شفیق الرحمان نے ماضی کی “غلطیوں” کا ذکر کرتے ہوئے معافی مانگی ہے، لیکن ناقدین کے مطابق یہ اعتراف مبہم ہے اور مکمل وضاحت سے گریز کیا گیا ہے۔
خواتین کی قیادت سے متعلق ان کے حالیہ بیان نے بھی تنازع کھڑا کیا، جسے ناقدین جماعت کی محدود سوچ قرار دیتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں یورپی، مغربی اور بھارتی سفارت کاروں نے بھی شفیق الرحمان سے ملاقاتیں کی ہیں، جو جماعت کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، شفیق الرحمان کی جماعت کے اندر گرفت مضبوط ہے اور وہ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم کردار کے طور پر اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔












