
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش میں بھارت کی پر وردہ حسینہ واجد کی حکومت کے گذشتہ برس 5اگست 2024 کو خاتمے کے بعدجہاں بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات مسلسل انحطاط پزیر ہیں۔ وہیں بھارتی مداخلت اور ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر شدید بے چینی اور سیاسی عدم استحکام کی لپیٹ میں ہے۔ اور اس نئی لہر کا تعلق حکومت، سیاست اور سماج تینوںکےساتھ ہے۔ نئی ہنگامہ خیزی طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل سے شروع ہوئی ہے۔
بنگلہ دیش کی سیاست وحکومت سقوط ڈھاکہ کے بعد سے بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا اور پاکستان کی بے جا مخالفت پر مبنی رہی ہے۔ مگرقدرت کا مکافات عمل دیکھیے ایک نسل نے بھارت کے پیچھے چل کر پاکستان سے علیحدگی اختیار کی پانچ دہائیوں بعد ایک اور نوجوان نسل نے بھارت اور اسکے پروردگان کو ملک سے نکال باہر کیا ہے اور اب ایک بار پھر پاک۔ بنگلہ دیش تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔
ادھر ہر محاظ پر شکست اور خفت سے سٹپٹائی ہوئی بھارت کی انتہا پسند ہندوقیادت نے بنگلہ دیش کو بھی مقبوضہ کشمیر سمجھتے ہوئے نوجوان بنگلہ قیادت کے قتل کی منصوبہ بندی پر عمل شروع کر دیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسوب سرگرمیوں کے تحت بنگلہ دیش میں ایک اور نوجوان سیاسی رہنما پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ شہر کھلنا میں پیش آیا، جہاں نیشنل سیٹزن پارٹی کے رہنما محمد مطالب شیکدر کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ محمد مطالب شیکدر کو قریب سے سر پر گولی ماری گئی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش کے نوجوان سیاسی رہنماؤں کو بھارت کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں بھارتی فوج کے ایک میجر اور کرنل کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔
ہادی ہو یا شکیدر یا حسنات یہ اس نوجوان نسل کی آواز ہیں جو گذشتہ سیاسی ادوار میں پیدا ہونے والی مرکزیت، محدود سیاسی آزادیوں، معاشی جمود اور اظہارِ رائے پر لگی قدغنوں سے نالاں ہے۔افسوسناک امر یہ ہےکہ بھارت کے زیر اثر بنگلہ دیش میں ریاستی ادارے، جنہیں جمہوریت کا محافظ ہونا چاہیے تھا وہ بھی جانبداری اور دباؤ کی زد میںہیں۔
عثمان ہادی کے قتل میں را اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے ملوث ہونے سے متعلق خبروں اوربیانات نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ آج دونوں ملکوں میں انکے سفارت خانوں کاکام معطل ہے ۔اور باہمی بداعتمادی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔اندیشہ یہ ہےکہ اس کے نتائج نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
علاقائی سطح پر بنگلہ دیش کی بدامنی بھارت، جنوبی ایشیا اور خلیج کے ساتھ اس کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر بھارت کی سلیگوری راہداری جو اس کی شمال مشرقی ریاستوں کی شہ رگ ہے۔وہ اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہو سکتی ہے۔ جبکہ سفارتی تناؤ، تجارتی رکاوٹیں اور سکیورٹی خدشات خطے کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
تاہم مستقبل میں حالات میں بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔یہ صورتحال اصلاحات، احتساب اور مکالمے کے ذریعےیکسر تبدیل کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ بنگلہ دیش تاریخ کےجس نازک موڑ سے کزر رہاہے۔ اس میں قیادت کے درست فیصلے نہ صرف ملک کو بحران سےنکال سکتے ہیں ساتھ بنگلہ دیش کے نوجوانوں کے لئے روشن مستقبل کی ضمانت بھی بن سکتے ہیں۔












