
از :سہیل شہریا
بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے باعث حکومت کی تبدیلی کے بعد ایک سال کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ وہ چین اور پاکستان کے قریب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ قوم پرست بھارتی حکومت کے تنگ نظری پر مبنی اقدامات بنگلہ دیش کو اس سے دور کر رہے ہیں۔
بھارتی حکومت اپنی کٹھ پتلی حسینہ واجد کو نکالے جانے پر بنگلہ دیش پر برہم ہے۔ توبنگلہ دیش کے نگران رہنما محمد یونس کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریت رکھنے والے بنگلہ دیش کی ’برہمی کا رخ انڈیا کی طرف ہو گیا ہے کیونکہ ہندو قوم پرست حکومت نے حسینہ واجد کو پناہ دی ہے۔
ملک کے اندربنگلہ دیش میں نئے انتخابات اپریل 2026میں منعقد کئے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔جبکہ حکومت کی تبدیلی کا ایک سال پوار ہونے کے تناظر میں ملک کے اندر جہاں پولرائزیشن بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وہیں بیرونی مداخلت کے خدشات کی موجودگی کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ جبکہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات کیں کامیابی کے لئے ابھی سے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے ہیں۔جس کے نتیجے میں اب نگران حکومت کو جمہوری اداروں کی بحالی کے لیے ملکی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔
نگران بنگلہ دیشی سیٹ اپ نے اندرون ملک کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ جن سے ملک کے تشخص میں نمایان تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔بنگلہ دیش کے وجودمیں آنے کے بعد سے اب تک ملک کا بانی قرار دئیے جانے والے مجیب الرحمٰن اب بانی نہیں رہے ۔اور نہ ہی انکی تصاویر والے کرنسی نوٹ ہی ملک میں کارآمد رہے ہیں۔اسی طرح ملک کے تعلیمی نصاب میں بھی نمایاں تبدیلیاں کرتے ہوئے اس میں اسلامی تشخص کو ابھارا گیا ہے۔
سفارتی میدان میں بنگلہ دیش کے لئے سب سے بڑا چیلنج بھارت کے ساتھ تعلقات ہیںجن میں اتنا تناؤ شاید پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا۔اسی ضمن میں بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ اورخارجہ امور کی وزارت کے سربراہ محمد توحید حسین کا کہنا ہے کہ ہمارے خارجہ تعلقات اس وقت ری ایڈجسٹمنٹ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔چنانچہ جب بھارت اپنا غصہ نکالنے کے لئے بنگلہ دیش پر تجارتی پابندیوں کے تازیانے برسا رہا تھا۔اسی دورا ن بنگلہ دیش کی حکومت کے نگران سربراہ محمد یونس نے مارچ میں چین کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔ جس میں ان کو دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر قرضے اور گرانٹس حاصل ہوئیں۔اسی اثنا میں پاکستان ۔بنگلہ دیش براہ راست تجارت کا سلسلہ لگ بھگ تین دہائیوں کے بعد بحال ہوا۔ اور ساتھ ہی 1971 میں الگ ہونے والے بھائیوںکے درمیان سمندر کے راستے تجارت اور براہ راست پروازیں شروع ہوئیں۔اور جب بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ طبی سیاحت پر پابندی لگائی تو اس وقت چین نے تین ہسپتال بنگلہ دیش کے مریضوں کے لیے مخصوص کر دیے ۔
جنوبی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے بھارت اور چین لگ بھگ پانچ دہائیوں سے آمنے سامنے ہیں۔ اور بھارت خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے نالاں ہے۔اور اب غلط خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بنگلہ دیش چین کے ساتھ ساتھ بھارت کے روایتی اور سخت دشمن پاکستان کے بھی قریب آ گیا ہے۔
نئی پیش رفت میں ڈھاکہ۔ اسلام آباد اور بیجنگ کے حکام نے چین میں ملاقات کی۔جس میں تینوں ممالک نے باہمی تعاون کے منصوبوں پر اتفاق کا اظہار کیا ہے جن میں تجارت، صنعت، تعلیم اور زراعت کے شعبے شامل ہیں۔جبکہ سب سے اہم معاملہ تینوں ملکوں کے درمیان سارک کی متبادل نئی تنظیم کے قیام پر اتفاق رائے تھا۔










