بدھ , 9 ستمبر , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے باعث حکومتی تبدیلی کو ایک برس مکمل ،خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں

1 سال پہلے
A A
بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے باعث حکومتی تبدیلی کو ایک برس مکمل ،خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں
Share on Facebookwhatsapp

از :سہیل شہریا
بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے باعث حکومت کی تبدیلی کے بعد ایک سال کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ وہ چین اور پاکستان کے قریب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ قوم پرست بھارتی حکومت کے تنگ نظری پر مبنی اقدامات بنگلہ دیش کو اس سے دور کر رہے ہیں۔
بھارتی حکومت اپنی کٹھ پتلی حسینہ واجد کو نکالے جانے پر بنگلہ دیش پر برہم ہے۔ توبنگلہ دیش کے نگران رہنما محمد یونس کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریت رکھنے والے بنگلہ دیش کی ’برہمی کا رخ انڈیا کی طرف ہو گیا ہے کیونکہ ہندو قوم پرست حکومت نے حسینہ واجد کو پناہ دی ہے۔
ملک کے اندربنگلہ دیش میں نئے انتخابات اپریل 2026میں منعقد کئے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔جبکہ حکومت کی تبدیلی کا ایک سال پوار ہونے کے تناظر میں ملک کے اندر جہاں پولرائزیشن بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وہیں بیرونی مداخلت کے خدشات کی موجودگی کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔ جبکہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات کیں کامیابی کے لئے ابھی سے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دئیے ہیں۔جس کے نتیجے میں اب نگران حکومت کو جمہوری اداروں کی بحالی کے لیے ملکی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔
نگران بنگلہ دیشی سیٹ اپ نے اندرون ملک کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ جن سے ملک کے تشخص میں نمایان تبدیلی رونما ہوئی ہے ۔بنگلہ دیش کے وجودمیں آنے کے بعد سے اب تک ملک کا بانی قرار دئیے جانے والے مجیب الرحمٰن اب بانی نہیں رہے ۔اور نہ ہی انکی تصاویر والے کرنسی نوٹ ہی ملک میں کارآمد رہے ہیں۔اسی طرح ملک کے تعلیمی نصاب میں بھی نمایاں تبدیلیاں کرتے ہوئے اس میں اسلامی تشخص کو ابھارا گیا ہے۔
سفارتی میدان میں بنگلہ دیش کے لئے سب سے بڑا چیلنج بھارت کے ساتھ تعلقات ہیںجن میں اتنا تناؤ شاید پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا۔اسی ضمن میں بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ اورخارجہ امور کی وزارت کے سربراہ محمد توحید حسین کا کہنا ہے کہ ہمارے خارجہ تعلقات اس وقت ری ایڈجسٹمنٹ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔چنانچہ جب بھارت اپنا غصہ نکالنے کے لئے بنگلہ دیش پر تجارتی پابندیوں کے تازیانے برسا رہا تھا۔اسی دورا ن بنگلہ دیش کی حکومت کے نگران سربراہ محمد یونس نے مارچ میں چین کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔ جس میں ان کو دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر قرضے اور گرانٹس حاصل ہوئیں۔اسی اثنا میں پاکستان ۔بنگلہ دیش براہ راست تجارت کا سلسلہ لگ بھگ تین دہائیوں کے بعد بحال ہوا۔ اور ساتھ ہی 1971 میں الگ ہونے والے بھائیوںکے درمیان سمندر کے راستے تجارت اور براہ راست پروازیں شروع ہوئیں۔اور جب بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ طبی سیاحت پر پابندی لگائی تو اس وقت چین نے تین ہسپتال بنگلہ دیش کے مریضوں کے لیے مخصوص کر دیے ۔
جنوبی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے بھارت اور چین لگ بھگ پانچ دہائیوں سے آمنے سامنے ہیں۔ اور بھارت خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے نالاں ہے۔اور اب غلط خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بنگلہ دیش چین کے ساتھ ساتھ بھارت کے روایتی اور سخت دشمن پاکستان کے بھی قریب آ گیا ہے۔
نئی پیش رفت میں ڈھاکہ۔ اسلام آباد اور بیجنگ کے حکام نے چین میں ملاقات کی۔جس میں تینوں ممالک نے باہمی تعاون کے منصوبوں پر اتفاق کا اظہار کیا ہے جن میں تجارت، صنعت، تعلیم اور زراعت کے شعبے شامل ہیں۔جبکہ سب سے اہم معاملہ تینوں ملکوں کے درمیان سارک کی متبادل نئی تنظیم کے قیام پر اتفاق رائے تھا۔

موضوعات : بنگلہ دیشپاک ترک نیوزحسینہ واجد
ShareSend

متعلقہ خبریں

بنگلا دیش: سابق پولیس سربراہ کا انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد
تازہ ترین

بنگلا دیش: سابق پولیس سربراہ کا انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف، حسینہ واجد پر فرد جرم عائد

12 جولائی , 2025
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی تعاون کا معاہدہ
پاکستان

پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی تعاون کا معاہدہ

12 جولائی , 2025
سعودی عرب میں غیر ملکی اب ریاض اور جدہ میں جائیداد خرید سکیں گے
تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر ملکی اب ریاض اور جدہ میں جائیداد خرید سکیں گے

10 جولائی , 2025
شعیب کے بعد مزید دو مینٹور ثقلین مشتاق اور وقار یونس بھی پی سی بی سے الگ
تازہ ترین

شعیب کے بعد مزید دو مینٹور ثقلین مشتاق اور وقار یونس بھی پی سی بی سے الگ

9 جولائی , 2025
اگلی خبر
فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، وزیر اعظم

فرسودہ نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کئے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، وزیر اعظم

یہ بھی پڑھیں

وزیراعلیٰ مریم نواز بیٹی کی گریجویشن کی تکمیل پر شکر گزار

وزیراعلیٰ مریم نواز بیٹی کی گریجویشن کی تکمیل پر شکر گزار

8 ستمبر , 2026
بابراعظم ٹیسٹ ٹیم میں بڑی تبدیلیوں سے لاعلم

بابراعظم ٹیسٹ ٹیم میں بڑی تبدیلیوں سے لاعلم

8 ستمبر , 2026
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، سعودی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، سعودی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ

8 ستمبر , 2026
وزیراعظم سے اٹلی کے نئے سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

وزیراعظم سے اٹلی کے نئے سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

8 ستمبر , 2026
فرانس اور جرمنی کا مشترکہ جنگی طیارہ منصوبہ ختم

فرانس اور جرمنی کا مشترکہ جنگی طیارہ منصوبہ ختم

8 ستمبر , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔