سوات: (پاک ترک نیوز)پاکستان کے دور دراز پہاڑوں میں سنو لیپرڈ کے شکار کا حیرت انگیز منظر کیمرے میں قید ہوا ہے۔
سنو لیپرڈ وسطی ایشیا کے اونچے، سرد اور ویران پہاڑوں کے ماحول کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے۔
اس کی مضبوط ٹانگیں اور دم، جو تقریباً جسم کے برابر لمبی ہے، اسے کھڑی اور پھسلن والی چٹانوں پر چلنے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ سرمئی رنگت اسے چٹان اور برف کے مناظر میں چھپنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ بلی اکثر صبح اور شام شکار کے لیے متحرک ہوتی ہے، اور اس کا شکار بڑے جانور جیسے بلیو شیپ، آئبیکس اور مارخور – جو 110 کلوگرام تک وزنی ہو سکتا ہے – کے ساتھ ساتھ چھوٹے جانور، جیسے مارموٹ، خرگوش اور پرندے بھی شامل ہیں۔
حیرت انگیز فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سنو لیپرڈ پاکستان کے کھڑی پہاڑوں میں مارخور کا تعاقب کر رہی ہے۔ جیسے ہی وہ آخری حملہ کرتی ہے، کچھ غیر متوقع واقع ہوتا ہے جو منظر کو اور بھی دلکش بنا دیتا ہے۔
سنو لیپرڈ ٹرسٹ کے مطابق، دنیا میں تقریباً 3,500 سے 7,000 سنو لیپرڈز باقی ہیں، جن میں سے پاکستان کے شمالی صوبوں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ہندوکش اور قراقرم پہاڑوں میں تقریباً 200 سے 420 سنو لیپرڈز پائے جاتے ہیں۔












