واشنگٹن / تہران : (پاک ترک نیوز)امریکا ایک بار پھر دوہرا کھیل کھیلتے بے نقاب ہو گیا۔ ایک طرف مذاکرات کی باتیں، دوسری طرف جنگ کی مکمل تیاری۔ اور اب خطرے کی گھنٹی پورے مشرقِ وسطیٰ میں بج چکی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر درجنوں خطرناک جنگی طیارے پہنچ چکے ہیں، جن میں F-15E ایگل جیسے مہلک اٹیک فائٹر شامل ہیں۔ یہ دفاعی نہیں بلکہ خالص حملہ آور جہاز ہیں، جو 1500 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور براہِ راست ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
صرف یہی نہیں، امریکا نے جدید جاسوس طیارے E-11A بھی تعینات کر دیے ہیں، جو 45 ہزار فٹ کی بلندی سے ایران کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید حملہ آور ڈرونز کی بیٹریاں بھی ایران کے قریبی ممالک میں پہنچائی جا رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ مذاکرات کے لیے ہے تو یہ جنگی مشقیں کیوں؟ اگر امن مقصود ہے تو میزائل سسٹمز، پیٹریاٹ اور تھاد کیوں پھیلائے جا رہے ہیں؟تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا “اسٹک اینڈ کیرٹ” پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں مذاکرات کی پیشکش، دوسرے ہاتھ میں جنگ کی لاٹھی۔
مقصد واضح ہے: ایران کو دباؤ میں لا کر اس کے تیل، اس کی معیشت اور اس کی خودمختاری پر کنٹرول۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی کم خطرناک نہیں۔ ایران بھی خاموش نہیں بیٹھا۔ ایران نے ایسے ڈرونز تیار کر لیے ہیں جو امریکی ری فیولنگ ٹینکرز اور AWACS طیاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یعنی اگر جنگ چھڑی تو صرف ایک طرف نقصان نہیں ہوگا۔ ایران بھی پوری طرح چونکا اور تیار بیٹھا ہے۔












