لاہور( پاک ترک نیوز) میٹھے مشروبات کے شوقین افراد کے لیے نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔۔روزانہ سافٹ ڈرنکس، لیمونیڈ یا اسپورٹس ڈرنکس پینے سے معدے کے کینسر کا خطرہ ڈھائی گنا تک بڑھ سکتا ہے۔۔تحقیق میں ایک لاکھ بارہ ہزار افراد کا کئی دہائیوں تک جائزہ لیا گیا۔۔اس دوران 278 افراد میں معدے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔۔ماہرین کے مطابق روزانہ کم از کم ایک میٹھا مشروب پینے والوں میں معدے کے کینسر کا خطرہ، ایسے افراد کے مقابلے میں دگنا سے بھی زیادہ پایا گیا جو یہ مشروبات شاذونادر ہی استعمال کرتے تھے۔۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس ،عوامی رابطہ مہم جاری رکھنے پر اتفاق
تحقیق میں 1 لاکھ 12 ہزار افراد کو کئی دہائیوں تک زیرِ مطالعہ رکھا گیا، جس کے دوران 278 افراد میں معدے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔لیکن کہانی میں ایک اہم موڑ بھی ہے!مصنوعی مٹھاس یا کم کیلوری والے کاربونیٹڈ مشروبات استعمال کرنے والوں میں معدے کے کینسر کا خطرہ زیادہ نہیں پایا گیا۔۔تحقیق کے مطابق زیادہ تر میٹھے مشروبات میں فرکٹوز استعمال کیا گیا تھا، جس کا زیادہ استعمال معدے کے کینسر کی بلند شرح سے منسلک پایا گیا۔۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن میں اضافہ، انسولین کے خلاف مزاحمت، ہارمونز میں عدم توازن اور جسم میں سوزش اس ممکنہ تعلق کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔۔یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس لیے سائنس دان یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ میٹھے مشروبات براہِ راست معدے کے کینسر کا سبب بنتے ہیں۔۔یعنی روزانہ کی ایک بوتل شاید صرف پیاس ہی نہ بجھا رہی ہو۔۔۔بلکہ صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔۔اس لیے میٹھا کم کریں، صحت کو ترجیح دیں






