اسلام آباد (پاک ترک نیوز ) وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، تاہم آئین میں اس کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔
آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس کے تحت جنگ، بیرونی جارحیت یا اندرونی بے چینی کی صورتحال میں صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے۔
اگر صوبائی اسمبلی کی قرارداد موجود نہ ہو تو ایمرجنسی کے نفاذ کی صدارتی منظوری کے لیے مجلس شوریٰ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری لینا لازم ہے۔
آئین کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کو مجلس شوریٰ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور دس روز کے اندر منظوری ضروری ہوتی ہے۔
دوسری جانب آئین کے آرٹیکل دو سو چونتیس کے تحت گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں صوبے کا گورنر صدر مملکت کو رپورٹ ارسال کرتا ہے کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق امور انجام دینے کی پوزیشن میں نہیں۔
صدر مملکت گورنر کی رپورٹ سے مطمئن ہونے کی صورت میں خود صوبے کا انتظام سنبھال سکتے ہیں یا کسی شخص کو صوبے کے انتظام کا اختیار دے سکتے ہیں۔
گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے بعض اختیارات مجلس شوریٰ کو منتقل ہو جاتے ہیں، جبکہ متعلقہ ہائیکورٹ کے آئینی اختیارات برقرار رہتے ہیں۔
آئین کے تحت گورنر راج ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک نافذ رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد مجلس شوریٰ کی منظوری سے مزید توسیع کی آئینی گنجائش موجود ہے۔
آئین کے آرٹیکل دو سو چھتیس کے تحت صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل دو سو بتیس یا دو سو چونتیس کے تحت کیے گئے بعض اعلانات اور اقدامات کے عدالتی جائزے پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔












