لاہور(پاک ترک نیوز)کیا اب انسان کو اڑنے کے لیے جہاز، ہیلی کاپٹر یا بڑے بڑے پروں کی ضرورت نہیں رہے گی؟ چین کے ایک 26 سالہ نوجوان نے ایسا اڑنے والا بورڈ تیار کرلیا ہے جو دیکھنے میں ہالی وڈ فلم اسپائیڈر مین کے کردار گرین گوبلن کی مشین جیسا ہے! حیران کن بات یہ ہے کہ نوجوان نے نہ انجینئرنگ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، نہ کسی بڑی کمپنی کی لیبارٹری میں کام کیا، بلکہ اپنی محنت، تجربات اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسا کارنامہ انجام دیا کہ ویڈیو سوشل میڈیا پر چھا گئی۔
یہ کوئی فلمی منظر نہیں، بلکہ چین کے نوجوان سونگ شِنگ یو کا تیار کردہ برقی اڑنے والا بورڈ ہے، جس پر سوار ہوکر اس نے ایشیا کے طویل ترین دریا یانگسی کو عبور کیا۔
چین کے صوبے ہوبے میں ہونے والی اس پرواز نے دیکھنے والوں کو حیران کردیا۔ نوجوان کی ویڈیو کو چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ڈوئین پر تقریباً 40 لاکھ لائکس ملے، جبکہ بڑے میڈیا اداروں نے بھی اس کارنامے کو نمایاں کوریج دی۔
لیکن اس حیرت انگیز ایجاد کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی بھی ہے!
سونگ نے صرف 14 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا تھا اور اپنے والد کی لکڑی کی فیکٹری میں کام کرنے لگا۔ مگر اس کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا: کیا انسان اپنی بنائی ہوئی مشین پر سوار ہوکر خود بھی اڑ سکتا ہے؟
اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اس نے ایک پرانی ورکشاپ کو تجربہ گاہ میں تبدیل کیا۔ ابتدا میں پانچ چھوٹے جیٹ انجن لگائے، لیکن پہلے بڑے تجربے کے دوران انجنوں میں آگ لگ گئی اور تاریں جل گئیں۔
سونگ نے ہمت نہیں ہاری۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے خرابی کا تجزیہ کیا اور جیٹ انجنوں کی جگہ برقی موٹروں کا نظام تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ آبپاشی سندھ میں 23 ارب 95 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں
دو ماہ کی محنت کے بعد تیار ہونے والے نئے بورڈ میں دس برش لیس موٹرز نصب کی گئیں۔ رفتار کو کنٹرول کرنے کے لیے انگلی میں پہنی جانے والی ایک انگوٹھی استعمال کی گئی، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی فلائٹ مانیٹرنگ سسٹم اسے توازن برقرار رکھنے کے لیے آواز کے ذریعے ہدایات دیتا ہے۔
مگر یہ سفر اتنا آسان بھی نہیں تھا! پہلی پرواز کے دوران بورڈ کا توازن بگڑا اور نوجوان زخمی ہوگیا۔ دس روز سے زیادہ تربیت کے بعد اس نے دوبارہ کوشش کی اور یانگسی دریا کے اوپر پرواز کرکے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
سونگ اس سے پہلے بھی غباروں کے ذریعے ایک تجرباتی خلائی شٹل بھیجنے اور جیٹ پاورڈ وِنگ کے ذریعے پرواز جیسے خطرناک تجربات کرچکا ہے۔ اس کے بعض منصوبے ناکام بھی ہوئے اور اسے بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔












