انقرہ (پاک ترک نیوز)ترکیہ نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے شمسی توانائی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرلیا، تاہم کوئلے اور دیگر فوسل فیول پر انحصار بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وسطی ترکیہ کے صوبے قونیہ کے علاقے کاراپینار میں یورپ کے بڑے شمسی توانائی منصوبوں میں شمار ہونے والا سولر پاور پلانٹ قائم ہے، جہاں 30 لاکھ سے زائد سولر پینلز سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر رہے ہیں۔
کالیون کاراپینار سولر پاور پلانٹ 2023 سے فعال ہے اور اس کی سالانہ بجلی پیداوار ترکیہ کی مجموعی بجلی کی طلب کا تقریباً 0.7 فیصد پورا کرتی ہے۔
پلانٹ کے ڈائریکٹر براک دوغرو کے مطابق یہ منصوبہ ہر سال تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن کاربن کے اخراج کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔
ترکیہ کی وزارت توانائی کے مطابق گزشتہ سال ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں کوئلے کا حصہ 33 فیصد رہا، جبکہ شمسی اور ہوائی توانائی سے تقریباً 23 فیصد بجلی حاصل کی گئی۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں اضافے کے باوجود ترکیہ نے کوئلے، تیل اور گیس پر انحصار ختم کرنے کے لیے واضح روڈ میپ پیش نہیں کیا، جو 2053 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج کے ہدف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ترکیہ اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے کے لیے جوہری توانائی پر بھی کام کر رہا ہے، جہاں بحیرہ روم کے ساحل پر ملک کا پہلا نیوکلیئر پاور پلانٹ زیر تعمیر ہے۔
ادھر 9 سے 20 نومبر تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 31 منعقد ہوگی، جس میں دنیا بھر سے رہنما، ماہرین اور ماحولیاتی اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بوئنگ اور ساب کے ٹی 7 اے تربیتی طیارے نے اہم سنگِ میل عبور کرلیا
ترکیہ اس کانفرنس میں ماحولیاتی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی پر زور دے گا۔












