تہران : (پاک ترک نیوز)ایران میں حکام نے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ حالیہ حکومت مخالف احتجاج کے دوران ملک کے ’’سیاسی اور سماجی نظام کو عدم استحکام‘‘ سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور امریکہ و اسرائیل کے مفادات کے لیے کام کر رہے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں تین نمایاں سیاستدان شامل ہیں، جن کی شناخت آذر منصوری، محسن امین زادہ اور ابراہیم اصغر زادہ کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ چوتھے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
آذر منصوری ایران ریفارم فرنٹ کی سربراہ ہیں، محسن امین زادہ سابق سفارتکار اور نائب وزیر خارجہ رہ چکے ہیں، جبکہ ابراہیم اصغر زادہ سابق رکن پارلیمنٹ ہیں۔
ایران کی عدلیہ کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسے وقت میں وسیع پیمانے پر سرگرمیوں کی قیادت کی جو ملک کے سیاسی و سماجی استحکام کے لیے خطرہ تھیں، جب ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے عسکری دباؤ کا سامنا تھا۔
سرکاری خبر رساں ادارے میزان کے مطابق ملزمان نے سڑکوں پر موجود ’’دہشت گرد عناصر‘‘ کے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کی بھی کوشش کی۔
ایران ریفارم فرنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آذر منصوری کو عدالتی حکم کے تحت پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس فورسز نے ان کے گھر کے دروازے سے گرفتار کیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ تنظیم کے دیگر سینئر رہنماؤں، جن میں نائب چیئرمین محسن آرمین اور سیکریٹری بدرالسادات مفیدی شامل ہیں، کو بھی طلب کیا گیا ہے۔
یہ گرفتاریاں جنوری میں ہونے والے شدید احتجاج کے بعد سامنے آئی ہیں، جو ابتدا میں تہران میں معاشی بحران کے خلاف شروع ہوئے تھے، مگر جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔
ایرانی حکومت کے مطابق ان احتجاجات کے دوران 3,117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق تنظیموں کے اس دعوے کو مسترد کر دیا گیا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے ریاستی فورسز کا ہاتھ تھا۔












