تل ابیب : (پاک ترک نیوز)اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح الفاظ میں خبردار کر دیا ہے کہ اگر ایران نے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے اسرائیل کی مقرر کردہ ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کی تو اسرائیل امریکہ کی اجازت یا شمولیت کے بغیر اکیلا کارروائی کرے گا۔
اسرائیلی دفاعی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اسرائیل کے وجود کیلئے ایک سنگین اور ناقابلِ قبول خطرہ بن چکا ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل یکطرفہ عسکری اقدام سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
ایک سینئر دفاعی ذریعے نے کہا،’’ہم نے امریکیوں کو صاف بتا دیا ہے کہ اگر ایران نے میزائلوں کے معاملے میں ہماری سرخ لکیر عبور کی تو ہم اکیلے حملہ کریں گے، اگرچہ فی الحال ایران اس حد تک نہیں پہنچا، مگر ہم اس کی ہر سرگرمی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے حالیہ ہفتوں کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ایران کے میزائل نظام اور پیداواری ڈھانچے کو تباہ کرنے کے منصوبے امریکہ کے سامنے رکھے۔
ان منصوبوں میں اہم میزائل فیکٹریوں اور تیاری کے مراکز کو نشانہ بنانے کی عملی حکمتِ عملی بھی شامل ہے۔اسرائیلی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل اپنی ’’آزادیِ عمل‘‘ محفوظ رکھے گا اور ایران کو ایسے اسٹریٹجک ہتھیار دوبارہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈال دیں۔
ایک اعلیٰ دفاعی عہدیدار نے موجودہ صورتحال کو ’’تاریخی موقع‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ایران کے میزائل نیٹ ورک پر فیصلہ کن ضرب لگانے اور اسرائیل و خطے کو لاحق خطرات ختم کرنے کا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو میزائل پروگرام سے منسلک دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ اہداف سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔اس دوران اسرائیلی فوجی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کہیں محدود نوعیت کی کارروائی کا انتخاب نہ کریں، جیسا کہ حال ہی میں یمن میں حوثیوں کے خلاف کیا گیا، جس سے ایران کی اصل عسکری صلاحیت برقرار رہ سکتی ہے۔
ایک فوجی اہلکار نے کہا،’’خدشہ ہے کہ وہ چند اہداف کو نشانہ بنا کر کامیابی کا اعلان کر دیں اور بعد میں نتائج سے نمٹنے کی ذمہ داری اسرائیل پر ڈال دی جائے، جیسا کہ حوثیوں کے معاملے میں ہوا۔
جزوی کارروائیاں اصل خطرہ ختم نہیں کرتیں۔‘‘ادھر اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کے اندر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ فضائیہ کے نئے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عمر تِشلر، وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے آئندہ امریکی دورے کے دوران ان کے ہمراہ ہوں گے۔بریگیڈیئر جنرل تِشلر، آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کی نمائندگی کریں گے، کیونکہ اس وقت واشنگٹن میں اسرائیل کا کوئی دفاعی اتاشی تعینات نہیں، جس کی وجہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے نامزدگی کی منظوری نہ دینا ہے۔












