پشاور:(پاک ترک نیوز)ملک کے بالائی حصوں میں شدید برفباری نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اہم شاہراہیں بند ہونے سے مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سیاح بھی مختلف علاقوں میں پھنس گئے ہیں، جب کہ مختلف حادثات میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سرد موسم اور شدید پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔بلوچستان کے شمالی اضلاع میں برفانی ہواؤں کے ساتھ برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ سے زیارت جانے والی متعدد گاڑیاں شاہراہ پر رک گئی ہیں، جبکہ چمن کے اطراف میں بڑی تعداد میں سیاح اپنی گاڑیوں سمیت محصور ہیں۔
این-50 شاہراہ پر کئی مقامات پر ٹریفک معطل رہی، جس سے بین الصوبائی سفر بھی متاثر ہوا۔برف اور پھسلن کے باعث مختلف حادثات پیش آئے جن میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ کوژک ٹاپ پر شدید سرد ہواؤں کے باعث درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے گر گیا، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
شیلاباغ کے قریب گاڑیوں کے تصادم میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں بھی شدید برفباری ریکارڈ کی گئی۔ بالائی علاقوں میں سڑکیں بند ہونے سے گاڑیاں پھنس گئیں اور بعض مقامات پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
شانگلہ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ چترال اور دیگر علاقوں میں رابطہ سڑکیں بند ہونے سے مشکلات بڑھ گئیں۔ ناران اور شوگران میں برفباری کے بعد سیاحوں کی آمد میں اضافہ دیکھا گیا۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور اور گردونواح میں کئی فٹ برف پڑنے سے زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں اور لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہنزہ، نگر اور چیپورسن سمیت دیگر علاقوں میں بھی برفباری سے صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش جبکہ بالائی حصوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔
مری میں برف پڑنے کے باعث مری ایکسپریس وے کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب وادی تیراہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ برف میں پھنسی گاڑیوں اور افراد کو بحفاظت نکالا جا رہا ہے۔ ایک مقام پر مکان کا حصہ گرنے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کو ملبے سے نکال کر طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔












