پیرس ( پاک ترک نیوز) دنیا کے بیشتر ممالک میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی ایئر کنڈیشنر بنیادی ضرورت بن جاتا ہے، لیکن یورپ کے کئی ممالک میں آج بھی بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں میں اے سی استعمال نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ترقی یافتہ یورپ میں ایسی کیا وجوہات ہیں کہ لوگ شدید گرمی کے باوجود ایئر کنڈیشنر لگانے سے گریز کرتے ہیں؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں گھروں میں ایئر کنڈیشنر کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین ہیں۔ فرانس، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کے کئی شہروں میں صدیوں پرانی عمارتیں موجود ہیں، جہاں عمارتوں کے بیرونی حصے میں تبدیلی یا اے سی کے بیرونی یونٹ نصب کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تاکہ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری اہم وجہ کرائے کے قوانین ہیں۔ جرمنی، آسٹریا اور دیگر یورپی ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ ایسے گھروں میں ایئر کنڈیشنر نصب کرنے کے لیے مالک مکان کی اجازت ضروری ہوتی ہے، جبکہ کرایہ دار عموماً ایسی جائیداد پر بھاری اخراجات کرنے سے گریز کرتے ہیں جو ان کی ملکیت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: یکم جولائی سے پری مون سون بارشوں کی پیش گوئی
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں بجلی کی قیمت بھی دنیا کے کئی دیگر خطوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ایئر کنڈیشنر چلانے کے ماہانہ اخراجات کافی بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے خاندان اے سی کو ضرورت کے بجائے ایک مہنگی سہولت یا لگژری تصور کرتے ہیں۔
ثقافتی طور پر بھی یورپ کے بہت سے لوگ مصنوعی ٹھنڈک کے بجائے قدرتی طریقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ دن کے وقت کھڑکیوں پر موٹے شٹر یا پردے بند رکھنا، شام اور رات کے وقت کھڑکیاں کھول کر ٹھنڈی ہوا سے فائدہ اٹھانا اور گھروں کی روایتی تعمیر کو گرمی سے بچاؤ کے لیے استعمال کرنا عام معمول ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک اور اہم مسئلہ تربیت یافتہ اے سی انسٹالرز کی کمی بھی ہے۔ کئی یورپی ممالک میں ایئر کنڈیشنر نصب کرنے کے لیے مہینوں پہلے وقت لینا پڑتا ہے، جبکہ اس پر ہزاروں یورو تک لاگت آ سکتی ہے، جس کے باعث بہت سے لوگ اس سہولت سے محروم رہتے ہیں۔
البتہ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد کئی ممالک میں گھروں اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنرز کی مانگ بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ دنیا کے کئی حصوں میں ایئر کنڈیشنر روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، لیکن یورپ میں تاریخی ورثے کے تحفظ، مہنگی بجلی، کرائے کے قوانین اور ثقافتی روایات اب بھی لاکھوں لوگوں کو قدرتی ٹھنڈک پر انحصار کرنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں۔












