اسلام آباد: ترکیہ نے پاکستان کی نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) کی جانب سے سوڈا ایش کی درآمدات پر اینٹی ڈمپنگ تحقیقات شروع کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے شدہ دوطرفہ تجارتی اہداف کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جن پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے اتفاق کیا تھا۔
ترکیہ نے این ٹی سی کو ارسال کردہ تحریری مؤقف میں کہا ہے کہ جن برسوں کو مبینہ نقصان (Injury Period) کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، ان میں تقریباً تمام معاشی اشاریے مثبت رجحان ظاہر کرتے ہیں، خصوصاً جب ان کا موازنہ اس بنیادی سال سے کیا جائے جس میں ترکیہ سے سوڈا ایش کی درآمدات صفر تھیں۔
اس بنیاد پر ترکیہ کا مؤقف ہے کہ پاکستانی درخواست گزاروں کے نقصانات سے متعلق دعوے ٹھوس بنیادوں سے محروم ہیں۔ترکیہ نے این ٹی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ اینٹی ڈمپنگ تحقیقات کو کسی بھی قسم کے اقدامات نافذ کیے بغیر فوری طور پر ختم کیا جائے۔
ترک حکومت نے تسلیم کیا کہ عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کے قواعد کے تحت اینٹی ڈمپنگ اقدامات ایک جائز قانونی ذریعہ ہیں، تاہم خبردار کیا کہ بغیر مناسب جواز کے ایسے اقدامات مقامی مسابقت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ترکیہ کے مطابق تحفظاتی پالیسیوں سے نہ صرف جدت (Innovation) متاثر ہوتی ہے بلکہ صارفین کے انتخاب محدود ہو جاتے ہیں اور صنعتی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ غیر منصفانہ درآمدی پابندیاں عوامی مفاد کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے سستی اور متنوع مصنوعات تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔
موجودہ معاملے میں ترکیہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی درخواست گزار درحقیقت مقامی مارکیٹ میں سوڈا ایش کی درآمد روکنا چاہتے ہیں، نہ کہ کسی حقیقی نقصان یا غیر منصفانہ قیمتوں کے مسئلے کو حل کرنا۔ ترکیہ کو یقین ہے کہ این ٹی سی ڈبلیو ٹی او کے اینٹی ڈمپنگ معاہدے اور اس سے متعلقہ عدالتی نظائر کو مدنظر رکھتے ہوئے منصفانہ فیصلہ کرے گی۔
ادھر ترک سفارتخانے کے کمرشل کونسلر نے این ٹی سی کے چیئرمین عبدالرشید شیخ کو لکھے گئے خط میں یاد دلایا کہ یہ تحقیقات 18 جولائی 2025 کو شروع کی گئیں، جو پاکستان میں سوڈا ایش پیدا کرنے والی دو بڑی کمپنیوں، لکی کور انڈسٹریز لمیٹڈ اور اولمپیا کیمیکلز، کی درخواست پر مبنی تھیں۔
اس کے بعد این ٹی سی نے ترکیہ کی سوڈا ایش پیدا کرنے والی کمپنیوں کو سوالنامے ارسال کیے اور دسمبر 2025 میں کمیشن کا ایک وفد ترکیہ گیا، جہاں اس نے کمپنیوں کے دفاتر اور پیداواری یونٹس کا موقع پر جا کر معائنہ کیا۔
اس سے قبل اکتوبر 2025 میں ترک سفارتخانے نے حکومتِ ترکیہ کا سرکاری مؤقف این ٹی سی کو جمع کرا دیا تھا۔کمرشل کونسلر کے مطابق ترک دستاویز میں حکومتِ ترکیہ کے تجزیات، پاکستانی درخواست گزاروں کے الزامات کا تفصیلی جواب، اور عالمی تجارتی تنظیم کے اینٹی ڈمپنگ معاہدے (GATT 1994 کے آرٹیکل VI) کی متعلقہ شقوں کا حوالہ شامل ہے۔












