انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کی فضائی صنعت نے دعویٰ کیا ہے کہ مقامی طور پر تیار کیے جانے والے پانچویں نسل کے "کان” لڑاکا طیارے کا منصوبہ مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور 2026 کے اختتام تک اس کے دو نئے نمونہ طیارے آزمائشی پروازیں کریں گے، جبکہ ترک فضائیہ کو پہلی کھیپ 2028 میں فراہم کرنے کا ہدف برقرار ہے۔
ترک فضائی صنعت کے سربراہ محمد دمیر اوغلو نے برطانیہ میں منعقدہ فارنبرو فضائی نمائش 2026 کے دوران بتایا کہ پی-1 اور پی-2 نامی دونوں نمونہ طیاروں کے زمینی آزمائشی مراحل شروع ہو چکے ہیں اور چند اہم تجربات مکمل ہوتے ہی ان کی پروازیں شروع کر دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ایک نمائشی طیارہ فروری 2024 میں کامیاب آزمائشی پرواز کر چکا ہے، جبکہ اب دونوں نئے نمونے منصوبے کے اگلے مرحلے میں جامع آزمائشوں کا حصہ بنیں گے۔
ترکیہ کا "کان” لڑاکا طیارہ فی الحال امریکی ساختہ ایف-110 انجنوں سے لیس ہے۔ تاہم روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد امریکہ نے پابندیاں عائد کر دی تھیں، جس کے باعث مزید انجنوں کی فراہمی کئی برس تک تعطل کا شکار رہی۔
ترک فضائی صنعت کے سربراہ کے مطابق اب امریکی کانگریس نے ان انجنوں کی برآمد کی منظوری دے دی ہے اور کمپنی امریکی سازندہ ادارے کے ساتھ مل کر انجنوں کی فراہمی کے انتظامات مکمل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز تقریباً دو سے اڑھائی سال بعد ہونا ہے، اس لیے انجنوں کی بروقت دستیابی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں اور منصوبہ اپنے مقررہ وقت پر مکمل کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا چھوٹے جوہری ری ایکٹروں کا منصوبہ تیز
ترکیہ کا منصوبہ ہے کہ ابتدائی بلاک 10 اور بلاک 20 طیاروں میں امریکی انجن استعمال کیے جائیں، جبکہ 2032 سے تیار ہونے والے بلاک 30 اور بلاک 40 طیاروں میں مکمل طور پر ترکی میں تیار کردہ ٹی ایف-35000 انجن نصب کیے جائیں گے۔
ترک حکام نے یہ بھی بتایا کہ انڈونیشیا کے ساتھ صنعتی تعاون کا عمل بھی جاری ہے۔ انڈونیشیا پہلے ہی 48 "کان” لڑاکا طیاروں کا آرڈر دے چکا ہے اور اس کی فضائی صنعت کو طیارے کے پرزوں کی تیاری اور دیگر منصوبوں کی سپلائی چین میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ترک فضائی صنعت کے مطابق اس وقت انڈونیشیا میں کمپنی کے تقریباً 60 ماہرین کام کر رہے ہیں اور مستقبل میں ان کی تعداد مزید بڑھائی جائے گی۔
محمد دمیر اوغلو کا کہنا تھا کہ قان آئندہ کئی دہائیوں تک ترک فضائیہ کا بنیادی لڑاکا طیارہ ہوگا اور یہ منصوبہ کم از کم 20 سے 30 سال تک جاری رہے گا، جس سے ترکی کی دفاعی صنعت اور خود انحصاری کو مزید تقویت ملے گی۔












