کراچی ( پاک ترک نیہوز) بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں نے 31 دسمبر 2025 تک اپنے پاس موجود تمام غیر دعویٰ شدہ ڈپازٹس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کر دیے ہیں۔ اکاؤنٹ ہولڈرز یا ان کےورثاب اپنے ڈپازٹس کی واپسی کے لیے مرکزی بنک کو درخواست دے سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ تازہ معلومات کے مطابقکسی ڈپازٹ کو اس وقت غیر دعویدار کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے اگر یہ دس سال تک غیر فعال ہو۔اور اس مدت کے دوران کوئی لین دین نہ کیا گیا ہو۔اور بنکاری کی کسی بھی سہولت کے لئےکوئی درخواست نہ دی ہو یا کوئی اعتراف نہ کیا ہو۔تاہم ایسے کھاتوں میں کسی نابالغ، حکومت یا عدالت سےمتعلق ڈپازٹس شامل نہیں۔
بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے سیکشن 31 کے تحت، تمام بینکوںاور مالیاتی اداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے ڈپازٹس بشمول فکسڈ ڈپازٹس، دیگر ڈپازٹس، چیک، ڈرافٹ اور بلز آف ایکسچینج کو دس سال کی غیر فعالیت کے بعد، نابالغوں، حکومت یا عدالتوں کے نام پر رکھے جانےوالے ڈپازٹس کو چھوڑ کربقیہ اسٹیٹ بینک کے حوالے کریں۔
غیر دعویدار ڈپازٹس کی فہرست کو چیک کرنے کے لیے، دعویدار متعلقہ سال اور بینک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد برانچ کا نام، صوبہ، اکاؤنٹ ہولڈر کا نام، شناختی کارڈ یاپاسپورٹ نمبر، پتہ اور رقم ظاہر کرنے والی ایکسل شیٹ ظاہر ہوگی۔
رقم کی واپسی کا دعوی دائر کرنے کے لیے، اکاؤنٹ ہولڈرز یا ورثا کو متعلقہ بینک برانچ سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے جہاں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا یا انسٹرومنٹ قابل ادائیگی تھا۔اگر برانچ بند یا شفٹ ہو گئی ہو تو، اسی بینک کی قریبی برانچ اور انضمام یا حصول کی صورت میں حاصل کرنے والے بینک سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ
دعویداروں کو ایک درست شناختی کارڈ کے ہمراہ دستخط شدہ درخواست۔ متوفی اکاؤنٹ ہولڈر کی صورت میں وراثت کا سرٹیفکیٹ۔ اور جہاں متوفی کا غیر دعویدار ڈپازٹ 100,000 روپے سے کم ہے وہاں متوفی کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ہمراہ ایک معاوضہ بانڈ تمام قانونی ورثاء کا دستخط شدہ غیر عدالتی اسٹامپ پیپر اور انکے شناختی کارڈ جمع کرانا چاہیے۔
تمام صورتوں میںبرانچ مینیجر متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ درخواست کوسٹیٹ بنک کو بھیجے گا۔ جو تصدیق کے بعد متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارےکو سرنڈر کی گئی رقم درخواست دہندہ یا اسکے ورثا کو واپس کرنے کے لئے فراہم کرے گا۔












