کراچی ( پاک ترک نیوز) اسٹیٹ بینک نے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے جاری دو اہم مراعاتی اسکیمیں ختم کر دی ہیں، جس پر بینکنگ شعبے نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم مالیاتی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بینکوں کی مجموعی منافع بخش کارکردگی پر زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں۔
اسٹیٹ بینک نے یکم جولائی 2026 سے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم (TTCIS) ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق ان اسکیموں پر حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم بہت زیادہ ہو چکی تھی، جس پرآئی ایم ایف نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔
اسٹیٹ بینک کی ہدایت کے مطابق بیرونِ ملک سے رقوم بھیجنے والے افراد اور پاکستان میں رقم وصول کرنے والے مستفیدین کے لیے ترسیلات پر کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی، تاہم اب یہ اخراجات بینکوں کو خود برداشت کرنا ہوں گے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور بینک آف پنجاب کے چیف ایگزیکٹو ظفر مسعود نے کہا کہ بینک اس اضافی لاگت کو برداشت کریں گے اور اس حوالے سے آئندہ حکمت عملی پر مشاورت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انویسٹ پاک پورٹل سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ہے ،وزیر خزانہ
دوسری جانب بینک الفلاح کے چیف ایگزیکٹو عاطف باجوہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بینکوں کی منافع بخش کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل بینکاری کے دور میں ٹی ٹی سی آئی ایس جیسی پرانی اسکیم کی ضرورت پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان کے بینک گزشتہ کئی برسوں سے حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری، زرِ مبادلہ کے کاروبار اور دیگر ذرائع سے ریکارڈ منافع کما رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی بینکوں نے سال 2025 میں تقریباً 640 ارب روپے کا منافع حاصل کیا، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بھی ان کی آمدنی میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق بینکوں کو پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے تحت ترسیلاتِ زر پر بدستور مراعات ملتی رہیں گی، جن کی شرح ترسیلات کے حجم کے مطابق ایک سے دو فیصد تک ہو سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے امید ظاہر کی ہے کہ اسکیموں کے خاتمے کے باوجود مالی سال 2027 میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ جاری رہے گا۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک پاکستانی افرادی قوت میں اضافے کے باعث ترسیلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان کو مالی سال 2025 میں تقریباً 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال میں یہ حجم 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے












