
از:سہیل شہریار
اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات دو اہم ترین نکات پر جمود کے باوجود تا حال جاری ہیں۔جبکہ "فلاڈلفیا راہ داری” سے اسرائیلی انخلا کا معاملہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے دورہ قطر کے مکمل ہونے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہفتہ کے روز ہونے والے مذاکرات میں قیدیوں سے متعلق امور اور غزہ میں امداد کے داخلے کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی۔
میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی حد اب بھی ایک بڑا متنازع نکتہ ہے۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیںکہ امریکی صدر کی طرف سے فلسطینیوں کو کرائی جانے والی یقین دہانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ، حماس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ فی الحال انخلا کے دائرے اور حجم پر بات چیت مؤخر کردے۔
https://www.youtube.com/watch?v=m8aDOdR6eQE&t=38s
حماس نے وضاحت کی ہے کہ اس نے پہلے ہی ایک جامع معاہدے کی تجویز دی تھی۔ جس کے تحت دونوں طرف سے تمام قیدیوں کو ایک ہی مرحلے میں رہا کرنا، جنگ کا مستقل خاتمہ، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا ،امدادی سامان کی آزادانہ فراہمی اور اسرائیل کے دوبارہ جنگ نہ چھیڑنے کی ضمانت شامل تھے۔مگر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس پیشکش کو رد کر دیا تھا اور اب بھی مختلف رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو نے گذشتہ شب واشنگٹن میں یرغمالی اسرائیلیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے 60 دنوں کے بعد جنگ مکمل ختم کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ 60 دن کی جنگ بندی کے دوران میں تمام زیر حراست افراد کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔مگر ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی واضح کر دیاکہ وہ حماس کوغزہ میں رہنے کی اجازت نہیںدیں گے۔ اور اس مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔حماس کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کرنا ناممکن ہے۔تاہم پہلے آٹھ زیر حراست افراد کی رہائی اور آخری دو کو وِٹکوف منصوبے کے تحت رہا
کرنے کے درمیان ہم جنگ کو ختم کرنے پر کام کریں گے۔
دریں اثنا یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔جن میں یومیہ امدادی ٹرکوں کی تعداد میں بڑااضافہ ، مزید سرحدی گزرگاہیں کھولنا، امدادی سامان کے داخلے کے راستے دوبارہ کھولنا اور ایندھن کی ترسیل کی بحالی شا مل ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق یہ تمام اقدامات آئندہ کچھ دنوں میں نافذ العمل ہوں گے۔ جبکہ امدادی سامان کی ترسیل کی ذمہ داری اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں اور غیر سرکاری تنظیمیں سنبھالیں گی۔
تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 88 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے المواصی اور البلح کے علاقوںمیں بے گھر افراد کے کیمپوں ، ایک گاڑی اور تیل کے ڈپوکو نشانہ بنایا۔ اور ساتھ ہی جنوب میں خان یونس میں اپنی کارروائیاں مزید بڑھا دی ہیں۔
واضح رہے کہ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 13سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 58ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔










