لاہو( پاک ترک نیوز)دنیا بھر کے مسلمان رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز کے لیے تیار ہیں، اور رواں سال 18 یا 19 فروری کو پہلا روزہ رکھا جائے گا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دن کی روشنی کے لحاظ سے دنیا کے مختلف حصوں میں روزے کی طوالت میں زبردست فرق ہوتا ہے؟شمالی نصف کرہ میں، جہاں اس وقت موسمِ سرما ہے، روزے نسبتاً مختصر ہوں گے۔ مثال کے طور پر ناروے کے شہر لانگ یئربین میں رمضان کے آغاز پر صرف تقریباً ڈھائی گھنٹے کی روشنی ہوگی، جو مہینے کے اختتام تک بڑھ کر ساڑھے 12 گھنٹے ہو سکتی ہے۔ گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں بھی روزے کا دورانیہ ابتدائی طور پر نو گھنٹے کے قریب ہوگا۔دوسری طرف، جنوبی نصف کرہ میں دن طویل ہیں اور مسلمان زیادہ وقت تک روزہ رکھیں گے۔
ارجنٹینا کے بیونیس آئرس اور نیوزی لینڈ کے آکلینڈ میں رمضان کے آغاز پر روزہ تقریباً 13 گھنٹے 15 منٹ تک ہوگا، جو مہینے کے اختتام تک ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا کیونکہ دن چھوٹے ہوتے جائیں گے۔مکہ میں روزہ شروع صبح 06:50 پر اور شام 18:20 پر ختم ہوگا، یعنی تقریباً 11.5 گھنٹے۔ پاکستان میں روزے کا دورانیہ ماہ کے آغاز میں 12 گھنٹے سے زیادہ ہوگا، اور اختتام تک 40 منٹ بڑھ جائے گا۔یہ فرق زمین کے خط استوا سے فاصلے اور دن کی روشنی کے اوقات پر منحصر ہے۔ اس سال کے رمضان میں دنیا کے زیادہ تر مسلمان معتدل اور قابلِ برداشت روزے رکھیں گے۔
روزہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے، اور مسلمانوں کو سحری اور افطار کے اوقات کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ مخصوص حالات میں کچھ افراد روزہ سے مستثنیٰ ہیں، جیسے بچے، بیمار، حاملہ یا مسافر۔رمضان 2026 میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ نہ صرف روحانی بلکہ قدرتی تناظر میں بھی دلچسپ ہوگا، کیونکہ ہر خطے کے روزے کا دورانیہ منفرد ہوگا۔












