
از:سہیل شہریار
امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلاباز وں ریڈ وائزمین، کرسٹینا کوچ اور وکٹر گلوورکے ہمراہ کینیڈا کے خلاباز جیریمی ہینسن چاند تک پرواز کے آرٹیمس۔ٹومشن پر اڑان بھرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ 10 دن کا سفر ہے جس میں وہ چاند کے گرد گھومتے ہوئے مختلف سائنسی اور تکنیکی تجربات سر انجام دیں گے۔ آرٹیمس۔ ٹو کا خلا میں سفر کسی بھی انسانی مشن کا خلا میں طویل ترین سفر ہو گا۔اور یہ 1970 میں قائم کردہ 248,655 میل کے اپولو 13 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑدے گا۔
ناسا کی رپورٹ کے مطابق آرٹیمس۔ٹو مشن چاند کی سطح پر نہیں اترے گا۔مگر اس پرواز کا مقصد چاند پر تحقیق و تلاش کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔ جو آنے والے سالوں میں چاند پر اترنے کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ پہلا موقع ہوگا جب ناسا کا اگلی نسل کا خلائی لانچ سسٹم راکٹ اور اورین کیپسول انسانی مسافروں کو لے کر جائے گا۔
آرٹیمس۔ ٹو کے عملے کے ارکان ایک ہفتہ قبل ہیوسٹن میں قرنطینہ میں داخل ہوئے تھے جو کہ خلابازوں کو جراثیموںسے ہر ممکن حد تک محفوظ رکھنے کے لیےپرواز سے پہلے کی سرگرمیوں کا ایک معیاری حصہ ہے۔
جبکہ ان خلا بازوں کے چاند کے مشن کی روانگی سے تقریباً چھ دن پہلے فلوریڈا کے کیپ کیناویرل میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر پہنچنے کی توقع ہے۔ جو کہ 8 فروری کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔تاہم ناسا نے ابھی تک مشن کی روانگی کی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ناسا کا تجربہ کار خلابازوائزمین آرٹیمیس ۔
ٹو مشن کی کمانڈ کرے گا، گلوور پائلٹ کے طور پر اور کوچ اور ہینسن مشن کے ماہرین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ ناسا نے 2023 میں ان خلابازوں کے انتخاب کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد سے اب تک چاند کے اس مشن کی تربیت کے طویل عمل سے گزرے ہیں۔
ناسا کے جانسن اسپیس سنٹر کی ڈائریکٹر وینیسا وِچ نےآرٹیمس۔ٹو مشن کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکےعملے میں چاند تک جانے والی پہلی خاتون، پہلی رنگین شخصیت اور چاند کے مشن پر جانے والا پہلا کینیڈین شامل ہیں۔اور ہمیں یقین ہے کہ یہ چاروں خلاباز انسانیت کی بہترین نمائندگی کریں گے کیونکہ وہ سب کے فائدے کے لیے تحقیق و تلاش کریں گے۔
آرٹیمیس۔ٹوکی پرواز ناسا کے خلائی لانچ سسٹم راکٹ اور اورین کیپسول کے لئے استعمال کا صرف دوسرا موقع ہوگا۔ اس سے قبل تین سال سے زیادہ پہلے آرٹیمس ۔ون نے چاند کے گرد بغیر عملے کے پرواز کی تھی۔رپورٹ کے مطابق چاروں خلا باز جانتے ہیں کہ یہ پرواز آرٹیمس۔تھری مشن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ جس کا مقصد 2027 میں چاند کے قطب جنوبی کے قریب چار خلابازوں کو لینڈ کرنا ہے۔ خلا میں رہتے ہوئے عملے کو زمین کے مدار میں ڈاکنگ کے طریقہ کار کا مظاہرہ کرنے، مختلف قسم کے سائنسی تجربات کرنے اور ایک قسم کے سائنسی تجربات کے لیے کیپ بورڈ کے ٹیسٹ کے طور پر کام سونپا جائے گا۔ تاکہ مستقبل میں چاند پر اترنے کے عمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔












