کوپن ہیگن :(پاک ترک نیوز)ڈنمارک نے گرین لینڈ کی فضاؤں میں اپنے جدید ایف-35 اے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں، جنہیں فضائی ایندھن کی فراہمی کے لیے فرانس کے ایک ٹینکر طیارے کی مدد حاصل رہی۔
یہ پیش رفت آرکٹک خطے میں گرین لینڈ کے کنٹرول پر بڑھتی ہوئی ٹرانس اٹلانٹک کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ڈینش مسلح افواج کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دو ایف-35 اے طیارے گرین لینڈ کے مشرقی ساحل کے قریب کُولوسُک کے علاقے میں پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس پرواز کی ویڈیو، جو 16 جنوری کو انجام دی گئی، سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔
کوپن ہیگن کے مطابق یہ اسٹیلتھ طیارے ڈنمارک میں فائٹر وِنگ اسکریڈسٹرپ کے اڈے سے براہِ راست گرین لینڈ پہنچے، جبکہ دورانِ پرواز فرانسیسی فضائیہ کے ایئربس اے330 ایم آر ٹی ٹی ٹینکر نے انہیں ایندھن فراہم کیا۔ فرانسیسی طیارہ جنوبی فرانس کے ایک اڈے سے روانہ ہوا اور مشن مکمل کرنے کے بعد واپس اپنے بیس پر لوٹ گیا۔
ڈنمارک نے اس کارروائی کو تربیتی مشن قرار دیا ہے۔اس مشن کے دوران فارو آئی لینڈز پر فلائی پاسٹ بھی کیا گیا، جو شمالی اوقیانوس میں واقع ڈنمارک کا ایک خودمختار علاقہ ہے۔
ڈینش مسلح افواج کے مطابق اس مشق کا مقصد فضائی ایندھن رسانی، طویل فاصلے کی پروازوں اور سخت آرکٹک حالات میں محفوظ آپریشنز کی صلاحیت کو جانچنا تھا۔ڈنمارک نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال بھی گرین لینڈ کے مغربی ساحل کے ساتھ فرانسیسی ٹینکر کی مدد سے ایسی پروازیں کی گئی تھیں، تاہم اس وقت ایف-16 طیارے استعمال ہوئے تھے۔
اب رائل ڈینش ایئر فورس نے اپنے تمام ایف-16 طیارے ریٹائر کر کے ایف-35 اے کو شاملِ خدمت کر لیا ہے۔یہ تازہ پروازیں گرین لینڈ کے گرد ڈینش اور یورپی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کا حصہ ہیں، جو امریکا کی جانب سے جزیرے پر کنٹرول کے مطالبات کے بعد مزید نمایاں ہو گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل ہونا چاہیے، اور ان کے بقول ڈنمارک چین اور روس سے لاحق مبینہ خطرات کے مقابلے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
ان بیانات کے ردِعمل میں ڈنمارک نے 15 جنوری کو ’’آپریشن آرکٹک اینڈیورنس‘‘ کا آغاز کیا، جو 2026 تک جاری رہنے والی وسیع فوجی مشقوں پر مشتمل ہے۔ اس آپریشن کے لیے ڈینش فوجی دستے فوری طور پر گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے، جبکہ نیٹو اتحادیوں سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی۔فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ نے اس مشن میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔
ڈنمارک کے مطابق ان ممالک کی منصوبہ بندی اور ریکی ٹیمیں پہلے ہی گرین لینڈ کا دورہ کر چکی ہیں تاکہ سرد موسم میں فوجی تعیناتی کے لیے لاجسٹک اور آپریشنل ضروریات کا جائزہ لیا جا سکے۔ابتدائی مرحلے میں مشقیں زیادہ تر دارالحکومت نوک اور مغربی ساحل کے علاقے کانگرلوسواک کے اطراف میں ہو رہی ہیں، جبکہ آئندہ عرصے میں مزید فائٹر پروازیں بھی شیڈول کی گئی ہیں۔
اُدھر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون ایک ہنگامی سفارتی اجلاس کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں امریکا اور دیگر فریقین کو ایک میز پر لایا جا سکے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ میں ڈنمارک کی قیادت میں ہونے والی فوجی مشقوں میں شریک ممالک پر تجارتی ٹیرف عائد کریں گے۔کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے ڈیووس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی رویے کو عالمی نظام کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر ’’گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔
ان بیانات کے بعد کینیڈا کی جانب سے امریکی ایف-35 طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جس سے آرکٹک بحران کے اثرات دفاعی اور تجارتی سطح پر مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔












