بیجنگ : (پاک ترک نیوز)چین کا پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ جے-20 مائٹی ڈریگن امریکی فوج کے لیے ایک “اڑتا ہوا خوف” بنتا جا رہا ہے۔
متعدد عالمی رپورٹس کے مطابق چین اس طیارے کی بڑے پیمانے پر تیز رفتار پیداوار کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں امکان ہے کہ 2030 تک چین کے پاس 1,000 سے زائد جے-20 اسٹیلتھ فائٹرز موجود ہوںگے۔
یہ صورتحال پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کی اس صلاحیت پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے کہ آیا وہ بڑی تعداد میں پانچویں نسل کی فضائی طاقت کو اپنے دفاع یا جارحانہ کارروائیوں میں استعمال کر سکتی ہے۔
حیران کن طور پر، اب تک جے-20 کو نہ تو بڑے پیمانے پر مشقوں، نہ جنگی پروازوں اور نہ ہی تربیتی سرگرمیوں میں کھلے عام دیکھا گیا ہے۔
چند محدود واقعات کے علاوہ، یہ طیارہ عوامی اور سیٹلائٹ نگرانی سے تقریباً غائب رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ چین جان بوجھ کر جے-20 کی اسٹیلتھ خصوصیات، فلائٹ کنٹرول ٹیکنالوجی اور دیگر خفیہ صلاحیتوں کو چھپائے رکھنا چاہتا ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تائیوان کے ایئر ڈیفنس زون میں چینی فضائی دراندازیوں میں کئی گنا اضافہ ہونے کے باوجود، جے-20 ان مشنز میں شاذ و نادر ہی نظر آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں یہ دراندازیاں 972 تھیں جو 2022 میں بڑھ کر 3,119 تک پہنچ گئیں۔ ماہرین اسے جنگی مشقوں، ممکنہ حملے کی تیاری، نئی ٹیکنالوجیز کی آزمائش اور تائیوان و امریکی فوجی اثاثوں کی نگرانی سے جوڑتے ہیں۔
جے-20 کو منظرِ عام سے اوجھل رکھنے کی حکمتِ عملی اگرچہ امریکہ، جاپان اور تائیوان کے لیے اس طیارے کا تجزیہ مشکل بنا دیتی ہے، لیکن اس سے چینی پائلٹس کی تربیت اور ضروری فلائٹ آورز حاصل کرنے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
جے-20 کے بارے میں دستیاب معلومات زیادہ تر چینی سرکاری میڈیا تک محدود ہیں۔ مثال کے طور پر، گلوبل ٹائمز دعویٰ کرتا ہے کہ جے-20 میں طاقتور مقامی WS-15 انجن نصب کیا جا چکا ہے، تاہم اس کے مشن سسٹمز، سافٹ ویئر، سینسرز اور ہتھیاروں کی حقیقی صلاحیتوں پر واضح معلومات موجود نہیں۔
پینٹاگون سے وابستہ تحقیقی اداروں کے مطابق، جے-20 کو ممکنہ طور پر دفاعی کردار کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں طویل فاصلے تک ہدف شناخت کرنے والا جدید AESA ریڈار شامل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ایک بڑا سوال ہے کہ آیا جے-20 امریکی F-35 یا F-22 کا حقیقی مقابلہ کر سکتا ہے، اور آیا یہ طیارہ مستقبل میں جدید اپ گریڈز کے قابل ہے یا نہیں۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں گلوبل ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ جے-20A ویریئنٹ میں نئی ساختی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن سے مزید جدید ٹیکنالوجی، اضافی ایندھن اور بہتر ایروڈائنامکس ممکن ہو جائیں گی، جو اس کی اسٹیلتھ اور سپرسونک کارکردگی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
تاہم، ماہرین کے مطابق ابھی بھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا جے-20 امریکی F-35 کی طرح 2060 یا 2070 کی دہائی تک مؤثر طور پر سروس میں رہ سکے گا یا نہیں۔












