بیجنگ : (پاک ترک نیوز)دنیا کی سمندری طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور اس بار وجہ کوئی جنگ نہیں، بلکہ ایک خاموش مگر فیصلہ کن لانچ ہے۔ چین نے پہلی بار اپنے نئے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ J-35 کو ایئرکرافٹ کیریئر سے لانچ کر کے عالمی عسکری طاقتوں کو چونکا دیا ہے۔
یہ کوئی عام اڑان نہیں تھی، بلکہ جدید الیکٹرو میگنیٹک کیٹا پلٹ سسٹم کے ذریعے کی گئی لانچ — وہی ٹیکنالوجی جسے امریکا نے تیار کرنے میں برسوں اور اربوں ڈالر لگائے۔
یہ تاریخی لانچ چین کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئر فوجیان (Fujian) سے کیا گیا، جو چین کا پہلا کیریئر ہے جو اس جدید نظام سے لیس ہے۔
فوجیان محض ایک بحری جہاز نہیں، بلکہ چین کے بحری عزائم کا واضح اعلان ہے۔عسکری ماہرین کے مطابق J-35 بظاہر امریکی F-35 سے مشابہ دکھائی دیتا ہے، مگر اب یہ صرف شکل کی حد تک نہیں رہا۔
اسٹیلتھ ڈیزائن، جدید ریڈار اور سینسر سسٹمز، اور اب کامیاب کیریئر لانچ — چین نے عملی صلاحیت دکھا دی ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ امریکا کو اس ٹیکنالوجی میں ابتدائی مراحل میں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا، مگر چین نے پہلی ہی نمائش میں اسے کامیاب بنا کر پیش کیا۔ یہ محض تجربہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے۔
اگرچہ امریکا آج بھی جنگی تجربے، پائلٹ ٹریننگ اور بحری موجودگی میں سبقت رکھتا ہے، لیکن چین کی حکمتِ عملی مختلف ہے۔ چین امریکا کی نقل نہیں کر رہا، بلکہ اسے بحرالکاہل میں روکنے کی تیاری کر رہا ہے۔چین تیزی سے ایئرکرافٹ کیریئر بنا رہا ہے، جنگی جہاز فیکٹریوں کی طرح تیار ہو رہے ہیں، اور اب اس کے پاس ایسا اسٹیلتھ فائٹر موجود ہے جو سمندر سے اڑان بھر سکتا ہے۔یہ مستقبل کا منظرنامہ نہیں، یہ طاقت کا نیا دور ہے — جو ابھی شروع ہوا ہے۔












