لاہور: (پاک ترک نیوز)سونا تو مسلسل مہنگا ہو ہی رہا ہے لیکن چائنہ نے اب چاندی کی قدر بھی بڑھا دی ہے۔ کیونکہ چین اپنی بے شمار مصنوعات کی تیاری میں چاندی کا استعمال کرتا ہے۔ چین چاندی کو ذخیرہ کر رہا ہے کیوںکہ جغرافیائی اور سیاسی حالات کی وجہ سے دھاتوں کی قیمت بڑھ رہی ہے۔
چاندی کا استعمال الیکڑک گاڑیوں، سولر پینلز، موبائل فونز اور دیگر مصنوعات میں ہو رہا ہے۔ چاندی کی قیمت میں فی الحال کوئی کمی نظر نہیں آتی اور اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
چین میں اس کی طلب کی وجہ سے وہاں اس کی قیمت 95 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے ۔اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال قیمت میں 150 فیصد اضافے سے چاندی نے سونے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ لیکن 2026ء میں بھی اس کی قدر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
تاریخ میں پہلی بار عالمی منڈی میں چاندی کی فی اونس قیمت 3.6 فیصد اضافے کے ساتھ 90 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یوں نئے سال کے پہلے دو ہفتوں میں چاندی کی قیمت 25 فیصد بڑھی ہے۔
ایک اونس تقریباً ڈھائی تولے کے برابر ہوتا ہے۔ اس حساب سے چاندی کی فی تولہ قیمت 37 ڈالر یا 10 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے۔2025 ء کے دوران پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت سالانہ ایک لاکھ 84 ہزار 362
روپے بڑھی جبکہ اس کے مقابلے میں چاندی کی قیمت سالانہ چار ہزار 368 روپے بڑھی اور 2025 ء کے اختتام پر چاندی کی فی تولہ قیمت سات ہزار 718 روپے تک پہنچ گئی۔
چاندی کی قیمت میں ہونے والا اضافہ 2026 میں بھی جاری ہے اور منگل کے روز ملک میں چاندی کی فی تولہ قیمت 9075 روپے فی تولہ رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ تین ماہ میں ایک اونس سونا پانچ ہزار ڈالرز اور چاندی 100 ڈالرز فی اونس تک جا سکتی ہے۔












