اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) پاکستان کیمیکل ایکسپو 2026 میں ماہرین اور صنعتکاروں کا کہناہے ملک میں عالمی معیار کا پیٹروکیمیکل کمپلیکس قائم کر کے آئندہ پانچ برسوں میں 5 ارب ڈالر تک کی درآمدی بچت اور 2 ارب ڈالر سے زائد اضافی برآمدات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
پاکستان کیمیکل ایکسپو 2026 کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ کیمیکل انڈسٹری ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زراعت، تعمیرات، پیکیجنگ اور آٹوموٹو سمیت متعدد شعبوں کو خام مال فراہم کرتی ہے اور عالمی سطح پر مسابقتی صنعت بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہارون علی خان نے کہا پاکستان کی کیمیکل اور پیٹروکیمیکل مارکیٹ کا حجم سالانہ 14 ارب ڈالر سے زائد ہے، تاہم اس طلب کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کیا جا رہا ہے۔
ہارون علی خان نے کہا ہ مؤثر صنعتی پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی معیار کے نیفتھا کریکر و پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے قیام سے پاکستان درآمدی انحصار میں نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف 5 ارب ڈالر کی درآمدی متبادل پیداوار ممکن ہوگی بلکہ 2 ارب ڈالر سے زائد اضافی برآمدات بھی حاصل کی جا سکیں گی۔
ہارون علی خان کا کہنا تھا کہ کیمیکل صنعت جدید صنعتی معیشت کی بنیاد ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی، جدت اور برآمدات کے فروغ کے لیے پیٹروکیمیکل شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔
ایکسپو کے شرکاء کو بتایا گیا کہ مربوط پیٹروکیمیکل ویلیو چین کی ترقی سے ایک لاکھ سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ اس سے 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی ڈاؤن اسٹریم صنعتی پیداوار کو بھی فروغ ملے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹروکیمیکل شعبے کی ترقی پاکستان کی صنعتی خودکفالت، برآمدی نمو اور معاشی استحکام کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔






