اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے تقریباً 10 ارب ڈالر لاگت کے 4500 میگاواٹ دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی بجلی منتقلی (پاور ایویکیوشن) کا تفصیلی منصوبہ وزارتِ آبی وسائل کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔
یہ منصوبہ وزیرِ اعظم ہاؤس کی ہدایت پر تیار کیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاسوں کے بعد اسٹریٹجک نوعیت کے اہم انفرااسٹرکچر منصوبوں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے لیے واپڈا سے پاور ایویکیوشن پلان طلب کیا گیا تھا۔
وزیرِ اعظم آفس کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) اور پاور ڈویژن کو فوری طور پر دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بجلی کی منتقلی کا حتمی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ پاور ڈویژن کو وزارتِ خزانہ اور اکنامک افیئرز ڈویژن کے ساتھ مل کر ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر کے لیے فنانسنگ کے انتظامات کرنے کا بھی ٹاسک دیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں واپڈا نے منصوبے کے بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کے متفقہ کمرشل آپریشن ٹائم لائنز انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کو فراہم کر دی ہیں۔
واپڈا نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ منظور شدہ مالی انتظامات کے تحت وسائل کی بروقت دستیابی کی صورت میں وہ ان تمام ڈیڈ لائنز پر مکمل عملدرآمد کا پابند ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ واپڈا بجلی پیدا کرنے والے حصے پر تعمیراتی اور کمیشننگ شیڈول کے مطابق کام کر رہا ہے، لیکن منصوبے کے مکمل فوائد کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بجلی کی ترسیل کا نظام متوازی طور پر مکمل نہ ہو۔
دیامر بھاشا ڈیم سے منسلک ٹرانسمیشن سسٹم کی منصوبہ بندی، عملدرآمد اور آپریشنل تیاری کی ذمہ داری نیشنل گرڈ کمپنی پر عائد ہوتی ہے۔ واپڈا نے واضح کیا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر کو بجلی پیدا کرنے کے شیڈول کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہونا چاہیے۔
واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی پیدا کرنے والے یونٹس تیار ہو جائیں لیکن ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر بروقت مکمل نہ ہو سکا تو بجلی کی ترسیل میں تاخیر، نصب شدہ صلاحیت کے کم استعمال اور قومی خزانے پر بھاری مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔












