راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خوارج کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 8 جنوری 2026 کو صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بنیادوں پر دو الگ الگ آپریشنز کیے گئے، جن کا ہدف بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ پہلی کارروائی ضلع شمالی وزیرستان میں کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد اس آپریشن میں 6 خوارج مارے گئے۔
دوسرا آپریشن ضلع کرم میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر کیا، جہاں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مزید 5 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔
بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ یہ خوارج سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ سمیت متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقوں میں کسی بھی ممکنہ بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز بدستور جاری ہیں تاکہ خطے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظور کردہ حکمت عملی ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گے۔












