انقرہ: (پاک ترک نیوز)ترکیہ یوکرین کو دی جانے والی سیکیورٹی ضمانتوں کے تحت بحیرۂ اسود میں بحری سلامتی کے مشن کی قیادت سنبھالنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فدان نے پیرس میں منعقد ہونے والے “کوالیشن آف دی ولنگ” سربراہی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے اتحادیوں نے اس مشن کی ذمہ داری ترکیہ کو سونپنے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کر لی ہے۔
حکان فدان کا کہنا تھا کہ“ترکی کی مسلح افواج ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہی ہیں کہ امن کے دور میں اگر کوئی بحری مشن تشکیل دیا جائے تو اس کی قیادت ترکی کو کرنی چاہیے، اور اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت ہو چکی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کے رکن کے طور پر بحیرۂ اسود میں سب سے بڑے بحری بیڑے کا حامل ملک ہونے کے ناطے، سمندری سلامتی کی ذمہ داری ترکی کو ملنا فطری امر ہے۔
فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ ترکی اس اہم ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔منگل کے روز یورپی اور امریکی اتحادیوں نے یوکرین کے لیے “مضبوط” سیکیورٹی ضمانتوں پر اتفاق کیا، جو روس کے ساتھ جنگ بندی کے بعد نافذ ہوں گی۔
صدر میکرون کے مطابق، اس معاہدے کے تحت جنگ بندی کی نگرانی کا نظام امریکا کی قیادت میں کام کرے گا۔صدر میکرون، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے ایک اعلامیۂ نیت پر دستخط کیے، جس کے مطابق کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں برطانیہ اور فرانس یوکرین میں فوجی دستے تعینات کریں گے اور وہاں “فوجی مراکز” قائم کیے جائیں گے۔
پیرس مذاکرات میں شریک امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ اتحادی ممالک یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں پر بڑی حد تک اتفاق رائے مکمل کر چکے ہیں، تاکہ یوکرینی عوام کو یقین ہو جائے کہ “جب یہ جنگ ختم ہو گی تو ہمیشہ کے لیے ختم ہو گی۔”
میڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، انقرہ نے گزشتہ سال اپنی حکمت عملی میں تبدیلی اس وقت کی جب ماسکو نے واضح کر دیا کہ کسی بھی معاہدے کے تحت نیٹو افواج کو یوکرینی سرزمین پر اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس کے بعد ترکیہ نے بحیرۂ اسود میں ممکنہ بحری مشن کی قیادت پر توجہ مرکوز کر لی، جس میں بحری روک تھام، بارودی سرنگوں کی صفائی، اور یوکرین کی بحریہ کی بحالی شامل ہے۔
برطانیہ اور فرانس کی جانب سے پیش کردہ اعلامیہ ماسکو کے لیے ایک بڑا تنازعہ بن سکتا ہے، کیونکہ روس بارہا یورپی افواج کی یوکرین میں موجودگی کو ناقابلِ قبول قرار دے چکا ہے۔
جرمنی نے اجلاس میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ نیٹو کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے قریبی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے۔ جرمن قیادت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ روس کے سخت مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی امن معاہدے کے لیے سمجھوتے ناگزیر ہوں گے۔
حکان فدان نے کہا کہ روس اور یوکرین اس وقت کسی معاہدے کے سب سے قریب ہیں اور پیرس میں جنگ کے بعد کے علاقائی نظام سے متعلق تمام معاملات پر تفصیل سے غور کیا گیا۔
ان کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ صرف یوکرین تک محدود نہیں ہو گا بلکہ روس اور یورپ کے درمیان طویل المدتی امن کے خدوخال بھی متعین کرے گا۔انہوں نے کہا،“میری نظر میں یہ ایک جامع معاہدہ ہو گا جو روس کی علاقائی پالیسیوں کی سمت بھی طے کرے گا۔”ممکنہ فوجی مشن کے علاوہ ترکی یوکرین کی تعمیر نو میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
حکان فدان نے کہا کہ ترکی ان چند ممالک میں شامل ہے جو نہ صرف اپنے زخم بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ دوسروں کی بحالی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا،“ہمارا معاشی تجربہ، کاروباری برادری کی مہارت، اور بالخصوص انفراسٹرکچر میں ہماری مضبوطی وہ اثاثے ہیں جو خطے کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ امن کے بعد ترکی خطے کی معاشی بحالی اور تعمیر نو میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔”












