استنبول : (پاک ترک نیوز) ترکیہ کے استنبول نیول شپ یارڈ میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران پاک بحریہ نے بدر کلاس ہیوی کارویٹ کی دوسری جنگی کشتی پی این ایس خیبر (F-282) کو باضابطہ طور پر اپنے بیڑے میں شامل کر لیا۔
یہ جدید جنگی جہاز ترکیہ کے ایدا کلاس ڈیزائن پر مبنی ہے، جو ترک بحریہ کے معروف MILGEM پروگرام کا حصہ ہے۔کمیشننگ تقریب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جبکہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف بھی اس موقع پر موجود تھے۔
اس تقریب کو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان اور ترکیہ کی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت چار بدر کلاس ہیوی کارویٹس تیار کی جانی ہیں۔
اس منصوبے کے مطابق ابتدائی دو جہاز ترکیہ میں تیار کیے گئے، جبکہ باقی دو جہاز پاکستان میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی تعاون کے تحت تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت پہلا جنگی جہاز پی این ایس بابر (F-280) ستمبر 2023 میں پاک بحریہ کے حوالے کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا جہاز پی این ایس خیبر (F-282) اب باضابطہ طور پر کمیشن کر دیا گیا ہے۔
ان دونوں جہازوں کی تعمیر اور ترسیل ترکیہ کے استنبول نیول شپ یارڈ میں مکمل کی گئی۔اُدھر کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں باقی دو جہازوں بدر (F-281) اور طارق (F-283) پر کام جاری ہے۔
ان میں سے بدر کو مئی 2022 جبکہ طارق کو اگست 2023 میں لانچ کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ پی این ایس خیبر کی کمیشننگ تقریب میں مزید تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم توقع ہے کہ یہ دونوں جہاز 2026 اور 2027 میں پاک بحریہ کے حوالے کر دیے جائیں گے، جب ان پر سپر اسٹرکچر اور جدید سسٹمز کی تنصیب مکمل ہو جائے گی۔
پی این ایس خیبر کی شمولیت پاک بحریہ کی جدید کاری کی کوششوں میں ایک اور اہم قدم ہے۔ اس کے ساتھ ترکیہ میں جہاز سازی کا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان میں مقامی سطح پر دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے بحری بیڑے کو جدید بنا رہا ہے بلکہ بحرِ ہند اور دیگر اسٹریٹجک خطوں میں اپنی موجودگی کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے ان وسیع تر دفاعی اقدامات کا حصہ ہے جو ترکیہ کے علاوہ چین جیسے قریبی دفاعی شراکت داروں کے تعاون سے، خصوصاً آبدوزوں کے شعبے میں، جاری ہیں۔












