جکارتہ ( پاک ترک نیوز) انڈونیشیا کی فوج نے صدر کی مبینہ غیر قانونی جاسوسی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی تشویش کے دوران دارالحکومت جکارتہ میں 20 ہزار 980 فوجی اور اہلکار تعینات کرنے کا عمل شروع کردیا ہے، تاہم حکام نے فوج کی تعیناتی کو جاسوسی اسکینڈل سے منسلک کرنے کی تصدیق نہیں کی۔رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کی مبینہ فون ٹیپنگ کے معاملے میں تین سینئر پولیس جرنیلوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سابق پولیس چیف جنرل لسٹِیو سگت پرابووو، اَہری سونتا نَسوشن اور ایکو ہادی سانتوسو شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزمان پر 2025 سے 2026 کے دوران غیر قانونی طور پر مواصلاتی رابطوں کی نگرانی، الیکٹرانک نظام تک غیر مجاز رسائی اور ڈیٹا حذف کرنے کے الزامات ہیں۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر کے آخر میں مبینہ طور پر جاسوسی سے متعلق فائلیں بھی مٹانے کا حکم دیا گیا تاکہ شواہد چھپائے جاسکیں۔انڈونیشیا کے صدارتی دفتر نے معاملے کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ وزیر مملکت برائے سیکریٹریٹ پراسیتیو ہادی کا کہنا تھا کہ سربراہِ مملکت کی گفتگو اور رابطوں میں انتہائی حساس معلومات موجود ہوسکتی ہیں، جن کا غلط استعمال ملکی مفادات اور قیادت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غداری کی جانب لے جانے والے عمل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد مستقبل کیا ؟
فوجی حکام کے مطابق جکارتہ میں تعیناتی کا پہلا مرحلہ پیر کو شروع ہوا، جس کے تحت دارالحکومت میں پہلے سے موجود یونٹس کے 2 ہزار 100 اہلکار تعینات کیے گئے۔ بدھ سے دارالحکومت کے باہر کے علاقوں سے مزید فوجی دستوں کی آمد شروع ہوئی، جس کے بعد مجموعی تعداد 20 ہزار 980 ہوگئی۔بحریہ کے آپریشنز کے معاون وائس ایڈمرل یایان سوفیان کے مطابق ان دستوں میں میرینز، بحریہ کے مختلف یونٹس، تربیتی مراکز اور جاوا و لامپونگ کے بحری اڈوں کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ مزید 13 ہزار 140 اہلکار ضرورت پڑنے پر تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔
انڈونیشین فوج کے ترجمان میجر جنرل محمد ناس نے کہا کہ فوجی دستوں کی تعیناتی قومی سلامتی اور ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے معمول کی کارروائی ہے۔ق












