
از: سہیل شہریار
پاکستان اور افغانستان کے ترکیہ اور قطر کے سینئر ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات میںپاکستان کی جانب سےفتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرنے پر اصرار اور افغان طالبان کے وفدکی جانب سے انکار کی وجہ سےبات چیت کسی نتیجے تک پہنچتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔جبکہ پیرکے روز ہونے والے مزاکرات کے تیسرے دور میں بھی تین بار معاہدے کی دستاویز کو حتمی شکل دینے کے بعد طالبان مزاکرات کار وں نے کابل کے حکم پر معاہدے پر دستخطوں سے انکار کر دیا۔
استنبول میں 25اکتوبر سے جاری مزاکرات میں اتوار کی شب دیر گئے تک جاری رہنے والی بات چیت کے اختتام پر پاکستانی وفد نے افغان فریق کو اپنی "حتمی پوزیشن” سے آگاہ کر دیاتھا۔ اور اس بات پر زور دیا ہے کہ طالبان عبوری حکومت کوافغانستان کے اندر سے سرحد پار دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرنے چاہئیں۔ ساتھ ہی پاکستا ن نے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں ناقابل تردید ثبوتوں کے جواب میں طالبان کے ردعمل کو "غیر منطقی اور زمینی حقائق کے برعکس” قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی جاری سرپرستی ناقابل قبول ہے۔https://www.youtube.com/watch?v=_mDDjx-pAdw
پاکستا ن نے واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات میں مزید پیش رفت کا انحصارافغان طالبان کے مثبت رویے پر ہوگا۔جبکہ طالبان کا مؤقف افغانستان، پاکستان اور خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔
تین دن کے مزاکرات کے بعد پاکستان کے ساتھ دونوں ثالث ملکوں قطر اور ترکیہ کے نمائندوںکی جانب سے اس اندیشے کا اظہار کیا گیاہے کہ حال ہی میں کابل کے بھارت کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنے والے اقدامات کے بعد مزاکرات میں شریک طالبان کا وفد بظاہر کسی اور کے ایجنڈے کی پیروی کر رہا ہے۔
مزاکرات کے پہلے روز افغان وفد نے پاکستان کے مطالبات کا تحریری جواب پیش کیا ۔ جس کے بعد پاکستان نےبھی تحریری جواب دیا۔بعد ازاں دوسرا اجلاس دوپہر کے بعد شروع ہوا۔دستاویزات کے تبادلے اور دوسرے سیشن کے آغاز تک امید تھی کہ بات چیت کسی مثبت نتیجے تک پہنچے گی۔ تاہم طویل مذاکرات کے بعد اب یہ امید دم توڑتی جا رہی ہے کیونکہ طالبان کے وفد کوئی تحریری یقین دہانی فراہم کرنے لیت ولعل سے کام لے رہاہے۔
جبکہ پاکستان اپنے جائز مؤقف پر قائم ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے حملے ہرصورت رکنے چاہیں۔ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بندہونا چاہیے۔ دہشتگردی کنٹرول کرنے کے میکنزم کو واضح کرنا ہوگا۔ اینٹی ٹیرر میکنزم واضح اور موثر ہونا لازمی ہے۔ اورپاکستان کا یہ اصولی مطالبہ تسلیم ہوگا تو ہی بات آگے بڑھے گی۔
پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تسلی نہ ہوئی تو پاکستان کوئی لچک نہیں دکھائے گا۔ ہم اچھے ہمسایوں اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہیں گے۔ مگر ساتھ ہی اپنے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
مزاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کے بعد پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ افغان نمائندے جنہیں کابل اور قندھار سے ہدایات موصول ہو رہی تھیں۔ ان کے پاس فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ جبکہ تحریری معاہدہ اور وعدہ کرنے میں افغان طالبان کی ہچکچاہٹ انکے ٹی ٹی پی۔ بی ایل اے اور افغانستان میں دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا واضح اشارہ تھا۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق ثالثوں کی جانب سے افغان طالبان کو پاکستان کےافغانستان کے اندر سے ہونے والی دہشتگری روکنے کے جائز مطالبے کو پورا کرنے پر راضی کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔جبکہ پاکستان نےواضح مؤقف پر قائم ہے۔












