نیویارک (پاک ترک نیوز)
سعودی عرب نے ایک بار پھر اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے اپنی دیرینہ حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اسرائیلی آبادکاروں کی سرگرمیوں اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے علاوہ یروشلم میں موجود مقدس مقات کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرے۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل گذشتہ شب سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تازہ پیشرفت کے حوالے سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہسعودی عربفلسطینی عوام اور ان کے جائز مقصد کے لیے اپنے مضبوط موقف کا اعادہ کرتا ہے۔اور قیام امن کے لیے مزید جامع کوششوں کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
عبدالعزیز الواصل نے کہا کہمیرا ملک فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کرنے کے لیے برسوں سے کام کر رہا ہے۔غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسی لیے سعودی عرب نے وہاں معمولات زندگی کی بحالی، تعمیر نو کے آغاز اور لوگوں کو اپنی سرزمین پر وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
اس ضمن میں سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے مسئلےکے دو ریاستی حل کے حوالے سے سعودی فرینچ کانفرنس کا ذکر کیا جو ستمبر میں اقوام متحدہ میں منعقد ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں نیویارک اعلامیہ سامنے آیا تھا۔اوراس اعلامیے نے کئی مزید ممالک کو ترغیب دی کہ وہ فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کریں۔
عبدالعزیز الواصل نے اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کے معاشی استحکام کے لے ایک ہنگامی اتحاد کا اعلان بھی کیا جو سعودی عرب اور کچھ دیگر دوست ممالک کی جانب سے مل کر بنایا ہے جو وہاں کےبہت بڑے مالی بحران کو حل کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس فنڈ کا مقصد فلسطینی اتھارٹی کی معاشی حالت کو مستحکم کرنے کے علاوہ اس کی سروسز فراہم کرنے اور سکیورٹی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی یقینی بنانا ہے۔
عبدالعزیز الواصل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انکا ملک اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے ان دو بلوں کی منظوری کی مذمت کرتاہے جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی تسلط اور غیرقانونی آبادکاری کو قانونی شکل دینا ہے۔انہوں نےسعودی عرب کی جانب سے ایک بار پھر اسرائیل کے قابض حکام کے آبادکاری اور توسیع پسندانہ عزائم کو مکمل طور پر رد کرنے کے عزمکے عزم کا اظہارکیا۔
عبدالعزیز الواصل نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرے تاکہ آبادکاری کی سرگرمیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے، غزہ کی ناکہ بندی کو ختم کرانے کے علاوہ القدس الشریف میں واقع مقدس مقامات کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے اور فلسطینی سرزمین کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے ہونے والی کسی بھی کوشش کی راہ روکنے میں مدد دے۔
انہوں نے کونسل کے اراکین سے بھی کہا کہ وہ بین الاقوامی قراردادوں اور نیویارک اعلامیے میں بیان کردہ اقدامات کی مناسبت سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کا سلسلہ آگے بڑھائیں۔جبکہ سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتےہیںکہ وہ متعلقہ قراردادوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کرے۔












