لاہور (پاک ترک نیوز )لاہور میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں بڑے پیمانے پر اضافہ سامنے آگیا، ریپ اور گینگ ریپ کے مقدمات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈیڑھ سو سے زائد بڑھ گئی۔اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے ابتدائی دس ماہ کے دوران لاہور میں ریپ اور گینگ ریپ کے 470 مقدمات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ رواں سال اسی عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر 630 ہوگئی۔اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال خواتین کے ساتھ زیادتی کے 160 اضافی مقدمات درج ہوئے، جو صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب بھر میں بھی خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رواں سال صوبے میں ریپ اور گینگ ریپ کے مجموعی طور پر 4 ہزار 955 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ ہفتے ریپ اور گینگ ریپ کے بڑھتے واقعات پر پولیس حکام سے سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا اور آئی جی پنجاب کو سنگین جرائم کا ہفتہ وار جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب نے صوبے کے تمام اضلاع میں سنگین جرائم کی روک تھام اور پولیس کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی کمیٹیوں میں شرکت کرنی چاہیے، شیری رحمان
اجلاس میں تمام اضلاع کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئی جی پنجاب اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائیں گے۔












