اسلام آباد (پاک ترک نیوز )جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مطالبے پر عمل درآمد کے لیے مزید سات سے دس دن کی مہلت مانگ لی ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اب اسلام آباد مارچ مزید ملتوی نہیں کرے گی، مارچ نومبر کے وسط میں ہر صورت ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان عوام کو ریلیف دینے کا دائرہ وسیع کرنے پر اتفاق ہوا ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے طریقہ کار پر اختلاف برقرار ہے۔ حکومت مرحلہ وار لیوی ختم کرنا چاہتی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں ہر ماہ تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے اسے مہنگائی سے پریشان عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد مارچ سے پہلے عوامی ریلیف پیکیج کا اعلان اور لیوی کے خاتمے کا واضح طریقہ کار پیش کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی ہر صورت احتجاج کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم سے ملاقات میں جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید فراست شاہ اور اسلام آباد کے امیر نصر اللہ رندھاوا شریک ہوئے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینیٹر رانا ثنا اللہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی ملاقات میں موجود تھے۔












