پشاور (پاک ترک نیوز )وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت میں خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس پشاور میں ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، سیکورٹی چیلنجز اور انتظامی و معاشی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ مجبوری کے تحت دستور و آئین کے مطابق کیا گیا تاکہ صوبے کو مزید خون ریزی اور تباہی سے بچایا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کی سرزمین ہے، لیکن گزشتہ چھ برسوں کے دوران جو حالات پیدا کیے گئے اس سے صوبے کا امن شدید متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 تک ہماری بہادر افواج، سیکورٹی اداروں اور عوام کی عظیم قربانیوں سے دہشت گردی کا قلع قمع ہو چکا تھا اور صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔ تاہم پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ واپس لایا گیا اور تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا، جس کا خمیازہ آج صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کی خاطر ہزاروں جوانوں نے جانیں قربان کیں، اور ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ صوبائی حکومت نے تعلیم، صحت اور امن کو مکمل نظر انداز کیا، پولیس کی 5 ہزار آسامیوں پر بھرتی نہ کی گئی، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رکھا گیا اور سی ٹی ڈی اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں اور وفاق نے مل کر خیبر پختونخوا کو فرنٹ لائن اسٹیٹ مانتے ہوئے اپنے حصے سے 1 فیصد اضافی فنڈز دینے پر اتفاق کیا تھا۔ اس مد میں 2010 سے اب تک خیبر پختونخوا کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ فورسز کو جدید اسلحہ اور آلات دینے کے بجائے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوا۔
انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی خود کرپشن میں ڈوبی رہی۔ خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے، کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے اور پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دے کر شدید کرپشن کی گئی۔
شہباز شریف نے بتایا کہ صوبے کے انتہائی خراب حالات پر انہوں نے صدرِ مملکت سے دو بار تفصیلی مشاورت کی اور سیاسی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک طویل مذاکرات کیے، جس کے بعد آئین کے مطابق یہ سخت اقدام اٹھانا پڑا۔ انہوں نے اس فیصلے کی حمایت پر تمام حلیف جماعتوں، بالخصوص صدر مملکت آصف علی زرداری اور قائد نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ قابل اور ایماندار افراد پر مشتمل مشاورتی کونسل تشکیل دی جا چکی ہے جو عوام کے بنیادی مسائل حل کرے گی۔ انہوں نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے استانی اور بچوں کی وفات پر گہرے غم کا اظہار کیا اور گورنر کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی۔











