
از: سہیل شہریار
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے عالمی بنک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس امریکہ میں آج ہفتہ کے روز اختتام پزیر ہورہے ہیں۔ جن میں دنیا بھر سے مرکزی بنکاروں، مالیاتی و اقتصادی ماہرین اور حکومتی اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت میں بدلتی ہوئی عالمی اقتصادی صورتحال پر توجہ مرکوز رہی۔اور آئی ایم ایف نے رکن ملکوں کو امریکی تجارتی محصولات اور تحفظ پسندی کے بعد پریشانی کے آثار سے خبردار کیا ۔
https://www.youtube.com/watch?v=6yDW4WBb1hA
آئی ایم ایف کو دنیا میں بڑے پیمانے پر "آخری حربے کے قرض دہندہ” کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جو صرف اس وقت قدم بڑھاتا ہے جب ممالک کو شدید مالی بحران کا سامنا ہوتا ہے اور وہ معمول کے قرض لینے کے ذرائع تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ تاہم اس کے قرضے اکثر سخت شرائط کے ساتھ آتے ہیں۔اور اس کے نتیجے میں قرضے دو دھاری تلوار بن جاتے ہیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ کا قیام 1944میں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ میں عمل میں آیا تو اسکے بانی ارکان کی تعداد 44تھی جو اب بڑھ کر 191ممالک تک پھیل چکی ہے۔
آئی ایم ایف عالمی مالیاتی استحکام کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔اور ممالک اور اداروں کو پالیسی مشورے، قلیل مدتی مالی امداد اور صلاحیت کی ترقی فراہم کرتا ہے۔
https://www.youtube.com/@pakturknews/videos
دنیا کاکوئی بھی ملک آئی ایم ایف میں شامل ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ موجودہ ممبران اسکی منظوری دیں۔ رکن بننے پروہ ملک اپنی معیشت کے سائز کی بنیاد پر کو ٹہ حاصل کر سکتا ہے۔ کوٹہ یہ طے کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ ملک کتنا حصہ ڈالتا ہے، کتنا قرضہ لے سکتا ہے اور ووٹنگ کی طاقت کتنی ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے ذمے واجب الادا رقم کو عام طور پر خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آرز) کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔یہ فنڈ کے اکاؤنٹ کی اپنی اکائی ہے جو دنیا کی پانچ بڑی کرنسیوں کی ٹوکری پر مبنی ہے۔ جن میں امریکی ڈالر، یورو، پاؤنڈ سٹرلنگ، چینییوان اور جاپانی ین شامل ہیں۔اگرچہ ایس ڈی آرزکوئی کرنسی نہیں ہیں۔تاہم ممالک ان کا تبادلہ مذکورہ کرنسیوں میں کر سکتے ہیں۔ 15 اکتوبرکو ایک ایس ڈی آر1.36 امریکی ڈالرکے برابر تھا۔
مجموعی طور پر 86 ممالک آئی ایم ایف کے 118.9 ارب ایس ڈی آرز کے مقروض ہیں جو تقریباً 162 ارب ڈالر کے برابر ہیں۔ پانچ ممالک جو سب سے زیادہ مقروض ہیں وہ کل کا نصف ہیں۔ جب کہ ٹاپ 10 ممالک 73 فیصد کے مقروض ہیں۔ارجنٹائن عالمی مالیاتی فنڈکا سب سےمقروض ملک ہے، جس کا قرض دیگرسات سب سے زیادہ قرض لینے والے ممالک – یوکرین، مصر، پاکستان، ایکواڈور، آئیوری کوسٹ، کینیا اور بنگلہ دیش کے مشترکہ کل قرض سے زیادہ ہے۔ارجنٹائن کے قرض کی مالیت تقریباً57 ارب ڈالر ہے۔ اس کے بعد14ارب ڈالر کے ساتھ یوکرین دوسرے اور9ارب ڈالر کے ساتھ مصر تیسرے نمبر پر ہے۔ پھر معمولی فرق سے پاکستان 8.9ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے۔ جبکہ ایکواڈور 8.83ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہیں۔












