اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وزارتِ داخلہ نے قومی اسمبلی میں قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے (این سی سی آئی اے) کی تشکیل سے اب تک کی کارکردگی رپورٹ پیش کر دی، جس کے مطابق ادارے کو دو لاکھ 52 ہزار 694 شکایات موصول ہوئیں، جبکہ مختلف سائبر جرائم میں گرفتار متعدد ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد ہونے کی تعداد انتہائی کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق سائبر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار 54 ملزمان میں سے صرف دو پر فردِ جرم عائد ہوئی۔ نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں گرفتار 105 ملزمان میں سے تین، جبکہ برقی مالی فراڈ میں گرفتار ایک ہزار 527 ملزمان میں سے صرف چھ کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچوں سے متعلق فحش مواد کے مقدمات میں 71 ملزمان گرفتار ہوئے، جن میں سے پانچ پر فردِ جرم عائد ہوئی، جبکہ 15 ملزمان رہا ہو چکے ہیں۔ جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار 935 ملزمان میں سے 28 پر فردِ جرم عائد ہوئی، جبکہ 106 ملزمان رہا کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح شناخت چرانے کے الزام میں گرفتار 325 افراد میں سے آٹھ پر فردِ جرم عائد ہوئی، جبکہ 53 ملزمان رہا ہو چکے ہیں۔
وزارتِ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق ادارے کو سب سے زیادہ ایک لاکھ 21 ہزار 33 شکایات مالی فراڈ سے متعلق موصول ہوئیں۔ بلیک میلنگ اور ہراسانی کی 82 ہزار 825، غیر مجاز رسائی کی 13 ہزار 866، جبکہ دھوکہ دہی کی پانچ ہزار 828 شکایات درج کرائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق بچوں سے متعلق فحش مواد کی 302، نفرت انگیز تقاریر کی 849 اور ریاست مخالف سرگرمیوں کی 813 شکایات موصول ہوئیں۔ پورنوگرافی سے متعلق 73 اور دہشت گردی سے متعلق صرف ایک شکایت درج کی گئی۔
ادارے کو غیر قانونی سمز کی 317، جعل سازی کی 266، جعلی دستاویزات بنانے کی 187 اور انسانی اسمگلنگ کی 21 شکایات بھی موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ دیگر نوعیت کی 25 ہزار 831 اور غیر متعلقہ 444 شکایات درج کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے نے اب تک نفرت انگیز تقاریر کے الزام میں 105، برقی مالی فراڈ میں ایک ہزار 527، بچوں سے متعلق فحش مواد کے مقدمات میں 71، جنسی استحصال اور جعلی خبروں کے معاملات میں 935، شناخت چرانے کے الزام میں 325 اور سائبر دہشت گردی کے الزام میں 54 ملزمان کو گرفتار کیا۔












