
از: سہیل شہریار
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ اور مشرق وسطی میں امن کے 20نکاتی منصوبے کے پہلے مرحلے میںتین روزہ مزاکرات کے بعد حماس اور اسرائیل نے ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا جس کے بعد اسکی تصدیق حماس اور اسرائیل سمیت ثالثوں نے بھی کر دی ہے۔
حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے ایک معاہدے تک پہنچ گئی ہے۔ جمعرات کے روز اپنے بیان میں حماس نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق جنگ ختم کی جائے گی، اسرائیلی افواج غزہ سے چلی جائیں گی، امدادی سامان کو علاقے میں داخل ہونے دیا جائے گا اور حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔جبکہ امن کے مستقل قیام کے لئے مزاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔اس ضمن میں حماس نے ٹرمپ، معاہدے کے ضامن ممالک اور مختلف عرب، اسلامی اور بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کا پابند بنائیں۔
اس سے قبل جمعرات کو ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ اسرائیل اور حماس نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام قیدیوں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا اور اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک واپس بلا لے گا… یہ ایک مضبوط، پائے دار اور دیرپا امن کی جانب ابتدائی اقدامات ہیں”۔انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔
https://www.youtube.com/watch?v=NI1gMiOjL_k&t=7s
فلسطینی صدر محمود عباس نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹرمپ اور تمام ثالثوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔ انھوں نے اپنے بیان میں انتظامی اور سیکیورٹی اداروں کو عرب اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ یہ پیش رفت ایک مستقل سیاسی حل کی راہ ہموار کرے گی۔
https://www.youtube.com/shorts/UN-7dBcsouY
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی کابینہ سے حماس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کیمنظوری حاصل کر لی ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کےسربراہ ایال زامیر نے اپنی فورسز کو دفاعی تیاری اور ہر ممکن منظرنامے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ قیدیوں کی واپسی کے آپریشن کو "حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت” کے ساتھ انجام دیا جائے۔
مزید براںحماس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں زندہ اسرائیلی قیدیوں کے بدلے دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔جبکہ صدرٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پیر سے شروع ہو گی ۔ اس وقت زندہ و مردہ 54 اسرائیلی قیدی غزہ میں حماس کے زیرِ حراست ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
امن کے لئے اب تدائی معاہدہ طے پانے کے باوجوداسرائیل اور حماس کے درمیان کچھ سنگین اختلافات باقی ہیں۔ اور کئی اہم تفصیلات کو ابھی طے کرنا باقی ہے۔ ان میں اسرائیلی انخلاء کا وقت اور حد، غزہ کی پٹی کے لیے جنگ کے بعد کی انتظامیہ کی تشکیل اور حماس کا مستقبل شامل ہیں۔اسی طرح صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق حماس کے قیدیوں کے حوالے کرنے کے بعد جنگ ختم ہو جانی چاہیے۔ مگر اسرائیل کہتا ہے کہ نہیں جنگ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد ہی ختم ہوگی۔اور اس نے غزہ کے شہریوں کو گھروں کو واپس نہ آنے کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔












