کراچی (پاک ترک نیوز )امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور بھتہ ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کا لانگ مارچ ہر صورت 20 ستمبر کو ہوگا، تاہم حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں اور مسائل کے حل کے لیے وقت درکار ہے۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لانگ مارچ کس شہر سے شروع کیا جائے گا، اس کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم لاہور سے آغاز کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا دھرنا صرف ایک دن تک محدود نہیں ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے عوام کی جو رائے ہے، وہی جماعت اسلامی کا مؤقف ہے۔ لانگ مارچ کا مقصد صرف عوام کو ریلیف دلانا ہے، افراتفری پھیلانا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سے مذاکرات جاری ہیں، لیکن حکومتی وفد جماعت اسلامی کی ہر تجویز پر یہی کہتا ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ اگر پیٹرولیم لیوی میں کمی یا خاتمے کے حوالے سے حکومت نے ٹھوس پیش رفت کی تو دھرنے اور آئندہ لائحہ عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔ 17 ستمبر کو جماعت اسلامی کی قیادت کا اجلاس بھی لانگ مارچ کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کے پیٹرول ریلیف پیکیج پر حافظ نعیم الرحمن نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ جماعت اسلامی پہلے بھی حکومت کے ریلیف پیکیج کو مسترد کرچکی ہے اور مکمل لیوی ختم کرنے کا مطالبہ دہرا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کو حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم قرار دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کبھی اسٹیبلشمنٹ کے قریب نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے کوئی فوائد حاصل نہیں کیے۔
صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ نئے صوبے بنانے کے حق میں ہیں، تاہم اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کو دیکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کے اندر مقامی حکومتوں کا نظام بھی موجود ہونا چاہیے، لیکن مقامی حکومتیں اس وقت سسٹم سے غائب ہیں۔












