واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور اعلیٰ فلسطینی حکام کو آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کردیا ہے۔ امریکی اقدام کے نتیجے میں محمود عباس مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بالمشافہ شرکت نہیں کرسکیں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کے حکام اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ارکان کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینی قیادت نے سابقہ وعدوں اور امریکی قوانین کے تحت عائد بعض تقاضے پورے نہیں کیے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ایسے اقدامات کیے جنہیں واشنگٹن اسرائیل فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کی کوشش قرار دیتا ہے۔ ان میں عالمی فوجداری عدالت اور عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنا اور فلسطینی ریاست کو یک طرفہ طور پر تسلیم کرانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن نے فلسطینی حکام پر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے بجائے بین الاقوامی اداروں کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانے اور بعض دیگر پالیسی اقدامات پر بھی اعتراض کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیسکو کا 2 ہزار 200 لائن اسٹاف آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ
امریکی اقدام کے باوجود اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی۔ اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ فلسطینی سفارت کار اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے، جبکہ محمود عباس کے خطاب کے لیے ویڈیو رابطے کے ذریعے شرکت کا امکان موجود ہے۔ گزشتہ سال بھی ویزا نہ ملنے کے باعث محمود عباس نے جنرل اسمبلی سے ویڈیو کے ذریعے خطاب کیا تھا۔ یہ امریکا کی جانب سے فلسطینی قیادت کے خلاف ویزا پابندیوں میں مسلسل دوسرے سال توسیع ہے۔ گزشتہ برس بھی محمود عباس سمیت فلسطینی وفد کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی ویزے نہیں دیے گئے تھے۔












