لاہور (پاک ترک نیوز )لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری حکم جاری کردیا۔ عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کے 31 جولائی اور یکم ستمبر 2026 کے نوٹسز پر آئندہ سماعت تک عملدرآمد روک دیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے سید مبین الفتی سمیت دیگر افغان طلبہ کی درخواستوں پر حکم جاری کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت تک افغان میڈیکل طلبہ کے خلاف پی ایم ڈی سی یا کسی میڈیکل ادارے کی جانب سے کوئی منفی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ امتحانات، کلینیکل مطالعات، عملی تربیت، اسائنمنٹس اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکیں گے۔
عدالت نے طلبہ کو ہاسٹل کی سہولت بھی بلا رکاوٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو عدالتی حکم تمام متعلقہ میڈیکل کالجز کے سربراہان تک پہنچانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل جنید جبار نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طلبہ دوسرے، تیسرے، چوتھے اور پانچویں سال کے ایم بی بی ایس پروگرامز میں زیر تعلیم ہیں اور انہیں افغان پناہ گزین کوٹے کے تحت میرٹ پر داخلہ ملا تھا۔ اس مرحلے پر تعلیم روکنے سے طلبہ کے مستقبل اور پیشہ ورانہ زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور پی ایم ڈی سی کے وکلا نے درخواستوں کی قابل سماعت ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ درست طالب علم ویزے کے بغیر افغان شہریوں کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وکلا کے مطابق پی ایم ڈی سی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی مجموعی پالیسی کا حصہ ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین کا آرٹیکل چار صرف پاکستانی شہریوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں موجود ہر شخص کو قانون کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔
وفاقی حکومت اور پی ایم ڈی سی کے وکلا نے متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی، جس کے بعد عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت تک طلبہ کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم برقرار رکھا۔












