لاہور(پاک ترک نیوز ) لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی احاطے میں موبائل فون کے ذریعے ویڈیوز، تصاویر بنانے اور ٹک ٹاک سمیت ریکارڈنگ پر پابندی عائد کردی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد پابندی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عدالتی احاطے، راہ داریوں، انتظار گاہوں اور دفاتر میں موبائل فون سے کسی بھی قسم کی ویڈیو یا تصویر بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پابندی کا اطلاق وکلا، پولیس اہلکاروں، صحافیوں، سائلین اور دیگر تمام افراد پر ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ریکارڈنگ کے لیے استعمال ہونے والا موبائل فون ضبط کیا جاسکتا ہے، جبکہ قانون کے مطابق سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ عبدالرحیم نے متعلقہ عملے کو پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
تاہم صحافیوں کے لیے مختص مخصوص جگہ کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔












