نیویارک(پاک ترک نیوز )امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر مستقل اڈہ قائم کرنے کے منصوبے کے ابتدائی مراحل کا اعلان کردیا ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین کے مطابق چاند پر انسانی موجودگی قائم کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ امریکا اور چین کے درمیان چاند تک دوبارہ پہنچنے کی دوڑ بھی جاری ہے۔
آئزک مین نے رواں سال چاند پر ایک مستقل ”مون بیس“ بنانے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت چاند کے مدار یا سطح پر مستقل امریکی موجودگی قائم کی جائے گی۔
ابتدائی طور پر ناسا رواں سال چاند پر اڈے کے مختلف حصے پہنچانا چاہتا تھا، تاہم بلیو اوریجن کے نیو گلین راکٹ کے دھماکے کے باعث کچھ سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوئی۔
جیرڈ آئزک مین کا کہنا ہے کہ وہ اسے بڑا دھچکا نہیں سمجھتے اور اصل ہدف 2027 ہے۔ اس مرحلے میں ناسا ہر ماہ چاند پر لینڈرز اور دیگر آلات بھیجنے کی رفتار حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مون بیس کے ابتدائی مشنز میں چاند کے جنوبی قطب پر روورز، ڈرونز اور سائنسی تجربات بھیجے جائیں گے۔ ناسا چاہتا ہے کہ جب امریکی خلاباز دوبارہ چاند کی سطح پر اتریں تو وہاں پہلے سے بنیادی ڈھانچہ اور روورز موجود ہوں۔
آئزک مین کے مطابق آرٹیمس فور مشن کے دوران جب امریکی خلاباز چاند کی سطح پر اتریں گے تو ان کے استقبال کے لیے وہاں پہلے ہی ضروری انفراسٹرکچر اور روورز موجود ہوں گے۔
ناسا کا مقصد صرف چاند پر اڈہ بنانا نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ انسان زمین سے دور طویل عرصے تک کیسے رہ سکتا ہے۔ یہی تجربات مستقبل میں مریخ اور دیگر سیاروں تک انسانی مشنز کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اس منصوبے میں نجی کمپنیاں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسپیس ایکس نے ٹیکساس اور لوزیانا میں خلائی مراکز قائم کیے ہیں، جبکہ الاباما، مسی سپی اور فلوریڈا میں بھی خلائی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
آئزک مین کے مطابق جس طرح ماضی میں ریلوے لائنوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے گرد نئی بستیاں اور معیشتیں وجود میں آئیں، اسی طرح مستقبل میں خلائی مراکز کے گرد بھی نئی صنعتیں اور معاشی سرگرمیاں جنم لے سکتی ہیں۔
ناسا آئندہ سال چاند پر مون بیس سے متعلق کئی مشنز لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ آرٹیمس فور کو 2028 میں لانچ کرنے کا ہدف ہے۔ اس مشن کے ذریعے نصف صدی سے زائد عرصے بعد انسان ایک بار پھر چاند کی سطح پر قدم رکھے گا۔












