اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) حکومت نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے درمیان براہِ راست رابطے کے لیے نئی موٹروے ایم 10 پر کام جاری ہے، جس پر 40 کروڑ ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔
وقفہ سوالات کے دوران وزارت مواصلات کے پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ موجودہ ایم 9 موٹروے ایکسپریس وے کے طور پر بدستور کام کرتی رہے گی، جبکہ ایم 10 کے ذریعے موجودہ راستے کو بائی پاس کرکے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان براہِ راست موٹروے رابطہ قائم کیا جائے گا۔پارلیمانی سیکریٹری کے مطابق ایم 10 کی فزیبلٹی مکمل ہوچکی ہے اور کراچی حیدرآباد موٹروے منصوبہ 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً تین دہائیوں سے تعطل کا شکار منصوبے میں تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ منصوبے کو سرمایہ کاری میں سہولت کے لیے تقریباً 50،50 کلومیٹر کے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔حکومت کے مطابق منصوبے کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زائد سرمایہ درکار ہے، تاہم ماضی میں کوئی سرمایہ کار منصوبے کی مالی معاونت کے لیے تیار نہیں تھا جبکہ حکومت کے پاس بھی مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے۔پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پانچوں حصوں کو عالمی سطح پر پیش کیا گیا۔ تین حصوں کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک سمیت مختلف مالیاتی انتظامات کے تحت سرمایہ کاری حاصل ہوچکی ہے، جبکہ بعض حصوں کے لیے خریداری کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے۔
یہ بھی پژھیں: 8 سال بعد سندل ایکسپریس بحال، سرگودھا اور ملتان کے درمیان ریلوے رابطہ بحال
انہوں نے مزید بتایا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے دو حصوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور توقع ہے کہ ایم 10 کے پانچوں حصے 2028 تک مکمل کرلیے جائیں گے۔












