سٹاک ہوم ( پاک ترک نیوز) سویڈن کی دفاعی کمپنی صاب نے سپرسانک رفتار سے پرواز کرنے والے جدید اسٹیلتھ ڈرون اے تھری کا مکمل حجم کا ماڈل پیش کردیا ہے۔کمپنی کے مطابق یہ بغیر پائلٹ طیارہ مستقبل میں جنگی طیاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور اسے انتہائی خطرناک فوجی مشنز کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
اے تھری کو الیکٹرانک جنگ، دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے اور سخت حفاظتی حصار والے علاقوں میں درست اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔صاب کے مطابق نئے ڈرون میں ٹیل لیس اسٹیلتھ ڈیزائن اختیار کیا گیا ہے، جبکہ ایندھن اور ہتھیاروں کے لیے اندرونی جگہ فراہم کی گئی ہے۔
کمپنی کے ایڈوانسڈ پروگرامز کے سربراہ پیٹر نیلسن کے مطابق صاب سویڈن کے ساتھ مل کر جنگی طیاروں کی اگلی نسل کے لیے ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے اور 2030 سے پہلے لڑاکا طیاروں جیسی خصوصیات رکھنے والے بغیر پائلٹ ڈیمانسٹریٹرز کی پرواز کا ہدف ہے۔صاب پہلے ہی اے ون اور اے ٹو نامی دو بغیر پائلٹ ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹرز پر کام کررہی ہے، جن کی مالی معاونت سویڈن کی وزارت دفاع کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی
اے ون ڈرون کی پہلی پرواز آئندہ 15 ماہ کے دوران متوقع ہے۔ اس میں جی ای ایرو اسپیس کا ایف 414 انجن استعمال کیا جائے گا، یہی انجن سویڈن کے گرپین ای اور ایف جنگی طیاروں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اے ون کو سپرسانک رفتار حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اے ٹو میں بھی اندرونی ہتھیاروں کا خانہ ہوگا اور اسے مستقبل میں ہتھیاروں کے استعمال کی ٹیکنالوجی جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ نئے میٹریلز اور سینسرز کی آزمائش بھی کی جائے گی۔
صاب کے مطابق اے تھری کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے فی الحال کوئی حتمی معاہدہ موجود نہیں، تاہم اگر سویڈش مسلح افواج منصوبے کی حمایت کرتی ہیں تو اے تھری کی پہلی پرواز 2030 کی دہائی کے آغاز میں ہوسکتی ہے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی مجموعی لاگت گرپین جنگی طیارے کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہوسکتی ہے، جس سے مستقبل میں کم لاگت پر جدید جنگی صلاحیت حاصل کرنے کا راستہ کھل سکتا ہے۔












