واشنگٹن ( پاک ترک نیوز) امریکا نے اپنی طویل فاصلے تک درست نشانہ بنانے کی صلاحیت مزید بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر جدید راکٹوں کی خریداری کا منصوبہ بنا لیا ہے، جبکہ دوسری جانب افریقی ملک بوٹسوانا کے ساتھ دفاعی تعاون بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔
امریکی فوج نے 2034 تک جی ایم ایل آر ایس خاندان کے ایک لاکھ 33 ہزار تک گائیڈڈ راکٹ خریدنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق دفاعی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سالانہ تقریباً 19 ہزار 22 راکٹ تیار کرنے کی صلاحیت ثابت کریں۔
ان راکٹوں کی فراہمی باضابطہ طور پر 2030 سے شروع ہونے کی منصوبہ بندی ہے، تاہم امریکی فوج 2028 سے ہی ان کی فراہمی شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔یہ جدید راکٹ ہِمَارس اور ایم 270 ملٹی پل راکٹ لانچرز سے فائر کیے جاسکتے ہیں اور جی پی ایس سمیت جدید رہنمائی کے نظام کی مدد سے انتہائی درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔معیاری جی ایم ایل آر ایس راکٹ تقریباً 84 کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں، جبکہ نئے ایکسٹینڈڈ رینج ورژن کی رینج تقریباً 150 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے۔
دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن پہلے ہی ان راکٹوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اپنی سالانہ پیداوار 14 ہزار راکٹ تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی پابندیاں عالمی تجارت میں مداخلت کے مترادف ہیں، ایرانی وزارت خارجہ
افریقہ میں بھی امریکی قدم مضبوط
دوسری جانب امریکا نے جنوبی افریقی ملک بوٹسوانا کو ایک اور سی 130 ایچ ہرکیولیز فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ فراہم کردیا ہے۔چار انجنوں والا یہ بھاری فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ 12 سے 30 ملین ڈالر تک مالیت کا بتایا جاتا ہے اور اسے امریکی ایکسس ڈیفنس آرٹیکلز پروگرام کے تحت فراہم کیا گیا ہے۔
بوٹسوانا امریکا کے جنوبی افریقہ کے اہم اور نسبتاً مستحکم شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے۔












