اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) امریکی جریدے ایف پی آئی ایف نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے اسٹریٹجک وسعت، سفارتی اثر پذیری اور علاقائی توازن مضبوط بنانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔جریدے کے مطابق مکہ معاہدہ بدلتے مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک نئے علاقائی دفاعی فریم ورک میں جوڑ دیا ہے۔
ایف پی آئی ایف کے مطابق تینوں ممالک نے خطے کے دفاع اور پائیدار امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ ایک دوسرے کے خلاف مسلح حملے کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے کا اصول اپنایا گیا ہے۔امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے علاقائی توازن اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے، اس لیے اسے ایران مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
ایف پی آئی ایف کے مطابق سعودی عرب کی مالی اور سیاسی قوت، ترکیہ کی دفاعی صلاحیت اور پاکستان کی جنگی تجربہ رکھنے والی فوج اس دفاعی فریم ورک کو منفرد قوت فراہم کرتی ہے۔جریدے نے پاکستان کی متوازن سفارت کاری کو بھی معاہدے کی اہم خصوصیت قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایران، امریکا، چین، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بیک وقت روابط اسے خطے میں ایک منفرد سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ایف پی آئی ایف کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کا ثالثی کردار بھی اس کی متوازن پالیسی کو نمایاں کرتا ہے، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی حمایت واشنگٹن میں اسلام آباد کے برقرار سفارتی وزن کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 2برس میں بیرونِ ملک 799 پاکستانی ورکرز جاں بحق، پارلیمنٹ میں تفصیلات پیش
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتا ہوا بھارتی اسرائیلی اسٹریٹجک تعاون بھی پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے، جبکہ اسرائیل کے بعض حلقوں نے بھی اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی جریدے کے مطابق گہرے سعودی پاکستانی دفاعی تعلقات بھارت کی علاقائی حکمت عملی پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ معاہدے میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے شمولیت کا راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ایف پی آئی ایف نے یمن میں حوثی حملوں اور بحیرۂ احمر میں عدم استحکام کو بھی نئے علاقائی دفاعی انتظامات کی ضرورت کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی اصل طاقت کسی سخت عسکری بلاک کے قیام کے بجائے اس کی شمولیتی اور لچکدار نوعیت میں ہے، جبکہ اس کا فوکس علاقائی پراکسی خطرات سے نمٹنے اور خطے میں پائیدار استحکام کے قیام پر ہے۔












