ابوظہبی ( پاک ترک نیوز) ایشیا کپ 2025 ٹی ٹونٹی کے سپر فور مرحلے میں تیسرا میچ آج پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔
قومی ٹیم آج سری لنکا کے خلاف سُپرفور مرحلے کا میچ کھیلنے کیلئے دبئی سے ابو ظہبی پہنچ چکی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے گزشتہ روز آرام کیا، ایونٹ میں اگر پاکستان کو فائنل کھیلنا ہے تو پاکستان کو یہ میچ لازمی جیتنا ہوگا، تاہم شکست کی صورت میں اگر مگر کا کھیل شروع ہوجائے گا۔
سپر فور مرحلے میں موجود چاروں ٹیموں کے پاس فائنل میں کوالیفائی کرنے کاموقع ہے، کوئی بھی ٹیم ایک میچ کی کامیابی پر فائنل تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔
سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم شعیب ملک نے سلمان علی کی پرفارمنس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جہدوجہد کرتے نظر آرہے ہیں۔
ایشیاکپ کی مناسبت سے اسپورٹس پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے سینئر کرکٹر اور سابق کپتان شعیب ملک کا کہنا تھا کہ سلمان علی آغا کسی بھی مسٹری اسپنر کا ہاتھ بالکل بھی چیک نہیں کرپارہے ہیں جبکہ یہ ٹی ٹونٹی کی ڈیمانڈ ہے جو کہ تشویش کی بات ہے۔
شعیب ملک نے کہا کہ سلمان علی آغا تین نمبر پر کھیل رہے تھے، جب وہ ٹیم کے کپتان بنے تو وہ نمبر تین پر ہی کھیل رہے تھے، ان کیلیے تین نمبر پھر بھی ٹھیک تھا۔
انھوں نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ دنیا میں جتنی بھی ٹیم ہیں یہاں تک کہ جو ایسوسی ایٹس ٹیمیں بھی ہیں، ان کے پاس بھی مڈل اوورز میں مسٹری اسپنرز ہیں۔
وہ پلانٹڈ لیگ سے کھیل رہے ہیں اور فرنٹ فٹ سے کھیل رہے ہیں اور ان کو ہاتھ نہیں چیک ہورہا، اس کا مطلب ہے کہ ان کو نہیں پتا کہ بال اندر آئے گا یا باہر نکلے گا،
شعیب ملک نے کہا کہ مسٹری اسپنرز کے خلاف یہ رویہ زیادہ تشویش کا باعث ہے، جیسا کہ بازید خان نے بھی کہا کہ انھوں نے اپنے آپ کو ڈیموٹ کیا ہے لیکن وہ جدوجہد کرتا نظر آرہا ہے۔
یا تو اسے واپس اس نمبر پر جانا پڑے گا، اگر انھوں نے یہ فارمیٹ کھیلنا ہے اور بطور کپتان کھیلنا ہے اور اگر نہیں تو ان کو اپنی اس چیز کو فکس کرنا پڑے گا کیوں کہ وہ بولر کا ہاتھ بالکل بھی چیک نہیں کرپارہے ہیں۔












